ایشیاء کپ میں پاکستان کی کارکردگی سوالیہ نشان؟

ایشیاء کپ میں پاکستان کی کارکردگی سوالیہ نشان؟

ایشیاء کپ کامعرکہ مکمل ہوا اور چمچماتی ٹرافی  سری لنکاکے حصے  میں آئی۔چھ ٹیموں  کے  درمیان ہونے والے مقابلوں میں وننگ ٹیم کی پرفارمنس ہرلحاظ سے بہترین رہی۔ سری لنکا کی ٹیم نے باؤلنگ اور بیٹنگ کے بعد فیلڈنگ میں بھی کمال پرفارمنس کا مظاہرہ کیا اور کئی  ناقابل یقین کیچ تھامے۔  پاکستان کی ٹیم ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ سے قبل  ایک اہم ایونٹ کے فائنل میں پہنچنے میں تو کامیاب ہوگئی تاہم   ٹورنامنٹ میں اس کی کارکردگی  شائقین کوکچھ زیادہ متاثر نہ کرسکی۔ اگر ہم ٹیم کی ناکامی اور بری کارکردگی کی جائزہ لیں تو  سب سے پہلےقومی ٹیم کی سلیکشن پر بات آتی ہے۔

قومی  سکواڈ میں  کپتان بابر اعظم، فخرزمان، حیدر علی  اور  خوشدل شاہ ایک باقاعدہ بیٹر کے طورپر کھیلے تاہم رضوان بطور وکٹ کیپر بیٹسمین اور شاداب خان، محمدنواز، آصف علی،افتخاراحمد بطور آل راؤنڈر ٹیم کا حصہ تھے۔ حارث رؤف، شاہ نواز دھانی، نسیم شاہ، عثمان قادر، محمد حسنین اور حسن علی  بطور باؤلرز ٹیم میں شامل تھے۔سکواڈ میں کپتان  بابر اعظم اور محمدرضوان کے سوا کوئی بھی بلے باز فل فارم میں نہیں تھا ،( بدقسمتی سے بابر اعظم بھی  شائقین کو اپنی پرفارمنس سےمتاثر نہ کرسکے)۔ نہ ہی شرجیل خان کو حتمی سکواڈ میں شامل کیاگیا اور نہ ہی شان مسعود کو موقع دیا گیا۔ان دونوں بلے بازوں کو باہر بٹھا کر ضائع کیا جا رہا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو پی ایس ایل میں بھی شعیب ملک بہت اچھا کھیلے۔  کرکٹ کے دیوانے شعیب ملک کو سکواڈ میں دیکھنا چاہتے تھے۔ دوسری جانب   اگر باؤلرز کی کارکردگی پر نظر ڈالی جائے تو وہ  بھی  متاثر کن نہ تھی۔  متحدہ عرب امارات کی  وکٹیں ویسے بھی فاسٹ باؤلرز کو سپورٹ نہیں کرتیں تو ایسی صورت میں فاسٹ باؤلرز کی فوج ظفر  متحدہ عرب مارات بھیجنا سمجھ سے بالا تر ہے۔

شائقین اور کرکٹ ایکسپرٹ کا سوال ہے کہ بار بار اور مسلسل ناکامی کے باوجود  فخر زمان کو کس پرچی کے تحت ٹیم میں شامل کیاگیاہے؟ سکواڈ میں موجود اِن فارم بلے باز حیدر علی موجود ہے توآؤٹ آف فارم  فخرزمان کی حتمی ٹیم میں بار بارشمولیت  بہت سے سوالوں کو جنم دیتی ہے۔بظاہر لگتا ہے کہ ٹیم مینجمنٹ  حیدر علی کو صرف متحدہ عرب امارات کی سیر کےلئے ساتھ لے کر گئی تھی  یہی وجہ ہے کہ  نوجوان  بلے باز کوکسی ایک میچ میں بھی  موقع نہیں دیا۔ اگر فخرزمان، آصف علی اور خوش دل شاہ کی ایشیاء کپ میں کارکردگی پر نظر ڈالی جائے تو  پتہ چلتا ہے تینوں بلے باز  کارکردگی کے نام سے کوسوں دور ہیں۔ فخرزمان نے چھ میچوں کی تمام چھ اننگز میں مجموعی طور پر96 رنز بنائے ، خوش دل شاہ بھی شائقین کے دلوں کو خوش نہ کرسکے اور تمام چھ میچوں میں صرف 58 رنز ہی بنا سکے۔ آصف علی کی شرمناک  کارکردگی ان سے بھی دوہاتھ آگے ہے۔ وہ چھ میچوں کی پانچ اننگز میں صرف 41 رنز کراپنی سلیکشن کو خود ہی مشکوک بناگئے۔ سری لنکا کے خلاف دونوں میچوں میں وہ رنز بنانے کی زحمت سے بھی عاری رہے اور دونوں اننگز میں دو خوبصورت انڈے لئے۔

 بابر اور رضوان ،دونوں  ٹاپ آرڈر بیٹرز ہیں۔ ٹیم میں کوئی بھی ایسا مڈل آرڈر یا لوئر مڈل آرڈر  بلے باز شامل نہیں تھا جو مشکل وقت میں ذمہ دارانہ بیٹنگ کرکے ٹیم کو سہارا دے سکے۔قومی ٹیم کو اسی چیز کا نتیجہ پورے  ایونٹ میں بھگتنا پڑا۔  آخر قومی ٹیم  کب تک بابر اعظم اور محمد رضوان پر اکتفا کرے گی؟ کیا ٹیم میں کھیلنے والے  دیگر بلے باز صرف میچ کو رونق بخشنے اور معذرت کے ساتھ ’’نَگ پُورے‘‘ کرنے کےلئے ٹیم کا حصہ بنتے ہیں۔ ایسے تمام  کھلاڑی جو یہ سمجھتے ہیں کہ  صرف دو  میچ اچھے  کھیل کر سال بھر کےلئے  سیٹ ’’ریزرو‘‘ کروا ئی جا سکتی ہے، ان کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیئے۔   پی سی بی کو اس بارے میں ضرور سوچنا چاہیئے کہ ٹیم زیادہ دیر  دو بیٹرز اور دو باؤلرز پر نہیں چل سکتی۔

بھارت ، سری لنکا اور افغانستان کی ٹیم پر اگر ایک نظر دوڑائی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اوپنرز، مڈل آرڈر اور لوئر مڈل آرڈر میں ایک ایک بہت اچھا بلے باز موجود تھا، جبکہ آل راؤنڈرز میں بھی حسا رنگا ڈی سلوا اور ہردیک پانڈیا جیسے بلے باز موجود تھے۔  اور یہی دیگر ٹیموں کی طاقت تھی۔

سپر فور مرحلےمیں بھارت کے علاوہ پاکستان نے کسی بھی بڑی ٹیم کے خلاف  اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ افغانستان کے خلاف سپر فور مرحلے میں بھی گرین شرٹس نے شائقین کو انتہائی مایوس کیا اورصرف  130 رنز کے ہدف کےحصول کےلئے بھی نو وکٹیں گنوا دیں۔ جیت میں  بھی کسی بلے باز کا ہاتھ نہیں تھا، وہ تو بھلا ہو تو نسیم شاہ کا جس نے  دو  خوبصورت چھکے رسید کرکے جاوید میانداد کے چھکے کی یاد تازہ کردی۔ اب ٹیم کا مسئلہ یہ ہےکہ اگر باؤلرز نے مخالف ٹیم کو کم سکور پر آؤٹ کرنا ہے تب   بھی  وہ خود ہی ٹارگٹ حاصل کریں گے اور اگر مخالف ٹیم بڑا ہدف دینے میں کامیاب ہوتی ہے تب بھی  باؤلرز ہی  کو میچ جیتنے کیلئے آزمایا جاتا ہے۔

اب   بات ہو جائے فائنل مقابلے کی۔۔۔

کرکٹ   میں کہا جاتا ہے کہ جس نے ٹاس جیت لیا اس نے میچ جیت لیا۔ لیکن ایشیاء کپ کے فائنل میں  پاکستان کی ٹیم ٹاس جیت کر  بھی میچ ہار گئی۔  سب سے پہلی بات کہ ایک فلیٹ پچ پر ٹاس جیت کر باؤلنگ  کا فیصلہ کچھ مناسب نہیں تھا کیونکہ پاکستان  کرکٹ کی تاریخ میں اگر دیکھا جائے تو بیٹنگ کے بل بوتے پر ہماری   کامیابی کی شرح انتہائی کم ہے جبکہ باؤلنگ کی بدولت ہم نے کئی تاریخی کامیابیاں سمیٹی ہیں۔ جن میں 1992 میں کرکٹ ورلڈ کا تاج بھی باؤلنگ ہی کی وجہ سے ہمارے سر سجا تھا۔

ایشیاء کپ کے فائنل میں بظاہر کمزور اور ناتجربہ سمجھی جانے والی ٹیم  مگر انتہائی مشکل ثابت ہوئی۔ پاکستان کے کپتان بابر اعظم کا  ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا  فیصلہ انتہائی مہنگا ثابت ہوا۔  اگرچہ پاکستان کو ابتدائی اوورز میں کچھ اہم کامیابیاں مل گئیں تاہم وہ اس  موقع کا بھر پور فائدہ نہ اٹھا سکے۔ سری لنکا کی ٹیم ابتدائی پانچ وکٹیں گرنے کے بعد سنبھل کر کھیلی اور وہ پاکستان کے کسی بھی باؤلر کو خاطر میں نہ  لائے۔  سری لنکن بیٹرز’’راجا پاکسے ‘‘اور آل راؤنڈر ’’حسا۔رنگا ڈی سلوا‘‘ نے ایک ایسے موقع پر اپنی  ٹیم کےلئے رنز کئے جب وہ انتہائی مشکل صورت حال سے دوچار تھے۔ ایک نئی اور ناتجربہ کار ٹیم کے اوپنرز اور مڈل آرڈر کی ناکامی کے باوجود لوئر مڈل آرڈر بیٹنگ  کا سنبھل جانا اور بڑا سکور کرنا یقیناً قابل ستائش ہے۔سری لنکن ٹیم 20 اوورز کے اختتام پر 171 رنز کا ایک اچھا ٹارکٹ دینے میں کامیاب رہی۔ امید کی جارہی تھی کہ  ان فارم محمدرضوان اور کپتان  بابر اعظم بڑا سکور کرنے میں کامیاب ہوں گے مگر سری لنکن باؤلرز کی نپی تلی باؤلنگ نے پاکستان کے کسی بھی بیٹر کو سنبھل کر کھیلنے کا موقع نہ دیا۔ فائنل میں قومی ٹیم کے کھلاڑی یکے بعد دیگرے آؤٹ ہو کر پویلین کا رخ کرتے رہے ۔ محمد رضوان اور افتخار احمد نے سری لنکن باؤلرز کے خلاف کچھ مزاحمت کی تاہم وہ بھی میچ وننگ اننگز نہ کھیل سکے۔ محمد رضوان نے 49 گیندوں پر 55اورافتخار احمد نے 31 گیندوں پر 32 رنز بنائے۔ دونوں کھلاڑیوں نے 80 گیندوں پر87 رنز بنائے۔ یعنی اگر پورا حساب کیا جائے تو دونوں نے 13.2 اوورز کھیل صرف 87 رنز بنائے، جو ہدف حاصل کرنے والی ٹیم   کیلئے اس قدر سست روی سے بیٹنگ کرنا انتہائی  قابل تشویش ہے۔ جوں توں کرکے فائنل میچ آگے بڑھ رہا تھا سری لنکن ٹیم مزید مضبوط اور پاکستانی ٹیم کی میچ پر گرفت کمزور ہوتی جارہی تھی۔ رضوان اور افتخار کے سوا کوئی بھی بلے باز جم کر نہ کھیل سکا اور پوری ٹیم   بیسویں اوور کی آخری بال پر147 رنز بناکر ہمت ہار گئی۔ یوں سری لنکا 23 رنز سے کامیابی حاصل کرکے  ایشیاء کپ کاچھٹی مرتبہ چیمپئن بن گیا۔

Leave a comment