برسات کی بہاریں

برسات کی بہاریں

 

نظیر اکبر آبادی کی یہ نظم “برسات کی بہاریں” اردو شاعری میں منظر نگاری کا ایک شاہکار نمونہ ہے۔ آپ کی فرمائش کے مطابق اس کا مکمل تجزیہ اور تشریح درج ذیل ہے

:شاعر کا مختصر تعارف

نظیر اکبر آبادی (1735ء – 1830ء) اردو کے پہلے “عوامی شاعر” تسلیم کیے جاتے ہیں۔ ان کا اصل نام ولی محمد تھا۔ انہوں نے مروجہ درباری شاعری سے ہٹ کر عام انسانوں کے مسائل، تہواروں، موسموں اور ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا۔ ان کی زبان سادہ، سلیس اور عوامی ہے، جس میں زندگی کی بھرپور عکاسی ملتی ہے۔

 

 :نظم کے بندوں کی تشریح

بند نمبر 1

ہیں اس ہوا میں کیا کیا برسات کی بہاریں
سبزوں کی لہلہاہٹ باغات کی بہاریں
بوندوں کی جھمجھماوٹ قطرات کی بہاریں
ہر بات کے تماشے ہر گھات کی بہاریں
کیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

:مختصر مفہوم

شاعر برسات کے موسم کی آمد پر ہواؤں کی مستی اور چاروں طرف پھیلی ہوئی ہریالی اور بارش کی بوندوں کا جشن بیان کر رہا ہے۔

:مشکل الفاظ کے معنی

   * لہلہاہٹ: جھومنا، سبزے کا ہوا سے ہلنا۔

   * جھمجھماوٹ: چمک، بوندوں کا گرنا۔

   * گھات: چال، انداز، موقع۔

 :تشریح

نظیر اس بند میں برسات کے بھرپور شباب کا نقشہ کھینچتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہوا کے جھونکوں میں ایک عجیب سی تازگی ہے جو اپنے ساتھ بارش کی بہاریں لے کر آئی ہے۔ ہر طرف سبزہ ہوا کے دوش پر رقص کر رہا ہے اور بارش کی ننھی بوندیں جب گرتی ہیں تو ان کی چمک اور آواز ایک نیا سماں پیدا کر دیتی ہے۔ قدرت کا ہر انداز ایک تماشا بن گیا ہے اور دوستوں کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ دیکھو برسات کی کیسی دھوم مچی ہے۔

:حوالہ کا شعر

 پھولے نہیں سمانے زمین و زماں آج
 آئی ہے بارشوں کی نئی داستاں آج

بند نمبر 2

  بادل ہوا کے اوپر ہو مست چھا رہے ہیں
جھڑیوں کی مستیوں سے دھومیں مچا رہے ہیں
پڑتے ہیں پانی ہر جا جل تھل بنا رہے ہیں
گلزار بھیگتے ہیں سبزے نہا رہے ہیں
کیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

:مختصر مفہوم

آسمان پر چھائے گہرے بادلوں اور مسلسل ہونے والی بارش (جھڑی) سے ہر طرف پانی ہی پانی ہونے کا منظر۔

:مشکل الفاظ کے معنی

   * جھڑیوں: مسلسل بارش۔

   * جل تھل: ہر جگہ پانی بھر جانا۔

   * گلزار: باغ۔

 :تشریح

اس بند میں شاعر بادلوں کی مستی کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بادل آسمان پر ایسے چھا گئے ہیں جیسے کوئی مست ہاتھی جھوم رہا ہو۔ مسلسل بارش نے زمین کو دریا بنا دیا ہے، اب زمین اور پانی میں فرق کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ باغ کے پھول اور پودے اس بارش میں غسل کر کے نہال ہو رہے ہیں اور ہر چیز نکھر گئی ہے۔

:حوالہ کا شعر

 گھٹا سر پر محیطِ جاں ہے اب کے
عجب عالم، عجب دوراں ہے اب کے

بند نمبر 3

مارے ہیں موج ڈابر دریا ڈونڈ رہے ہیں
مور‌ و پپہیے کوئل کیا کیا رمنڈ رہے ہیں
جھڑ کر رہی ہیں جھڑیاں نالے امنڈ رہے ہیں
برسے ہے منہ جھڑا جھڑ بادل گھمنڈ رہے ہیں
کیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

:مختصر مفہوم

 بارش کی شدت سے ندی نالوں کا بھر جانا اور پرندوں کی خوشی کا تذکرہ۔

:مشکل الفاظ کے معنی

   * ڈابر: گڑھا، تالاب۔

   * رمنڈ رہے ہیں: خوشی سے شور مچا رہے ہیں / اچھل رہے ہیں۔

   * گھمنڈ رہے ہیں: گرج رہے ہیں، زور دکھا رہے ہیں۔

 :تشریح

بارش اتنی تیز ہے کہ چھوٹے تالابوں میں بھی لہریں اٹھ رہی ہیں اور وہ دریاؤں سے ملنے کے لیے بے تاب ہیں۔ پرندے جیسے مور، پپیہ اور کویل برسات کی خوشی میں نغمہ سرا ہیں۔ بادل اپنی پوری شان اور گرج چمک (گھمنڈ) کے ساتھ برس رہے ہیں اور پہاڑی نالے اپنے کناروں سے باہر نکل کر بہہ رہے ہیں۔

:حوالہ کا شعر

موروں کے رقص نے عجب ایک سماں باندھا
 بادل نے آسماں پہ پھر سے کارواں باندھا

بند نمبر 4

جنگل سب اپنے تن پر ہریالی سج رہے ہیں
گل پھول جھاڑ‌ بوٹے کر اپنی دھج رہے ہیں
بجلی چمک رہی ہے بادل گرج رہے ہیں
اللہ کے نقارے نوبت کے بج رہے ہیں
کیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں  

:مختصر مفہوم

جنگل کی شادابی اور بادلوں کی گرج چمک کو اللہ کی قدرت کا شاہکار قرار دینا۔

:مشکل الفاظ کے معنی

   * دھج: ٹھاٹ باٹ، سجاوٹ۔

   * نقارے / نوبت: بڑے ڈھول جو خوشی کے موقع پر بجائے جاتے ہیں۔

 :تشریح

شاعر کہتے ہیں کہ برسات نے جنگل کو ہرا لباس پہنا دیا ہے۔ ہر جھاڑی اور بوٹا اپنی خوبصورتی کی نمائش کر رہا ہے۔ آسمان پر جب بجلی چمکتی اور بادل گرجتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اللہ کی قدرت کے بڑے بڑے ڈھول (نقارے) بج رہے ہوں اور کائنات خالقِ حقیقی کی عظمت کا جشن منا رہی ہو۔

:حوالہ کا شعر

 ہر شے پکارتی ہے کہ وہ خالقِ جہاں ہے
برسات کی رتوں میں قدرت کا یہ بیاں ہے

بند نمبر 5

بادل لگا ٹکوریں نوبت کی گت لگاویں
جھینگر جھنگار اپنی سرنائیاں بجاویں
کر شور مور بگلے جھڑیوں کا منہ بلاویں
پی پی کریں پپیہے مینڈک ملاریں گاویں
کیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

:مختصر مفہوم

برسات کے موسم میں حشرات الارض اور پرندوں کی آوازوں کا موسیقی سے موازنہ۔

:مشکل الفاظ کے معنی

   * ٹکوریں: ڈھول پر چوٹ لگانا۔

   * سرنائیاں: شہنائیاں۔

   * ملاریں: برسات میں گایا جانے والا ایک خاص راگ۔

 :تشریح

شاعر نے اللہ تعالی کی کمال قدرت کو دکھانے کی کوشش کی ہے اور صوتی منظر نگاری کا کمال دکھایا ہے۔ وہ کہتے ہیں بادلوں کی گرج ڈھول کی تھاپ ہے، جھینگروں کی آوازیں شہنائیوں جیسی ہیں، اور مینڈک ملار راگ گا رہے ہیں۔ گویا پوری فطرت ایک عظیم کنسرٹ یا موسیقی کی محفل میں شریک ہے جہاں ہر جاندار اپنی آواز سے برسات کا استقبال کر رہا ہے۔

:حوالہ کا شعر

 مینڈک کی ٹرٹریں ہیں یا کوئی ساز ہے
برسات کی ہوا میں اک الگ پرواز ہے

بند نمبر 6

ہر جا بچھا رہا ہے سبزہ ہرے بچھونے
قدرت کے بچھ رہے ہیں ہر جا ہرے بچھونے
جنگلوں میں ہو رہے ہیں پیدا ہرے بچھونے
بچھوا دیے ہیں حق نے کیا کیا ہرے بچھونے
کیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

:مختصر مفہوم

پوری زمین کا سبزہ زار بن جانا اور اسے اللہ کی نعمت قرار دینا۔

:مشکل الفاظ کے معنی

   * ہر جا: ہر جگہ۔

   * بچھونے: بستر، فرش۔

   * حق: مراد اللہ تعالیٰ۔

 :تشریح

نظم کے آخری بند میں شاعر زمین کی ہریالی کو مخملی فرش سے تشبیہ دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ہر طرف سبز رنگ کے قالین بچھا دیے ہیں۔ میدان ہوں یا جنگل، ہر جگہ نرم و نازک سبزہ اگ آیا ہے۔ یہ سب اللہ کا کرم ہے جس نے انسانوں کے لیے برسات کی صورت میں یہ خوبصورت بہاریں بھیجی ہیں۔

:حوالہ کا شعر

 تیری قدرت کے قربان اے میرے مالک
سبزے سے بھر دیا ہے تو نے ہر اک میداں

نظم کی جامع تشریح اور خلاصہ

:خلاصہ

نظم “برسات کی بہاریں” برسات کے موسم کا ایک متحرک مرقع ہے۔ نظیر اکبر آبادی نے اس نظم میں بارش کے بعد پیدا ہونے والی تبدیلیوں کو بڑی مہارت سے بیان کیا ہے۔ انہوں نے نہ صرف بصری مناظر (جیسے سبزہ، بادل، بجلی) بلکہ صوتی مناظر (پرندوں کی آوازیں، بادلوں کی گرج) کو بھی کمالِ فن سے یکجا کیا ہے۔

:جامع تشریح

اس نظم کا مرکزی خیال فطرت کی رنگینی اور اللہ کی قدرت کا اعتراف ہے۔ شاعر نے برسات کو صرف ایک موسم کے طور پر نہیں بلکہ ایک جشن کے طور پر پیش کیا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ کس طرح ایک بارش زمین کی پیاس بجھاتی ہے، مردہ زمین میں زندگی کی لہر دوڑاتی ہے اور چرند، پرند، انسان و حیوان سب کو خوشی سے سرشار کر دیتی ہے۔ نظم کا اسلوب سادہ ہے لیکن اس میں موجود موسیقیت اور تکرار (کیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں) قاری کو ایک سحر میں مبتلا کر دیتی ہے۔ یہ نظم ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کائنات کا ذرہ ذرہ اپنے خالق کی تسبیح بیان کر رہا ہے اور برسات اسی خالق کی رحمت کا ایک حسین مظہر ہے۔