جنھیں میں ڈُھونڈتا تھا آسمانوں میں زمینوں میں

 

جنھیں میں ڈُھونڈتا تھا آسمانوں میں زمینوں میں

جنھیں میں ڈُھونڈتا تھا آسمانوں میں زمینوں میں
وہ نکلے میرے ظلمت خانۂ دل کے مکینوں میں
حقیقت اپنی آنکھوں پر نمایاں جب ہوئی اپنی
مکاں نکلا ہمارے خانۂ دل کے مکینوں میں
اگر کچھ آشنا ہوتا مذاقِ جبَہہ سائی سے
تو سنگِ آستانِ کعبہ جا مِلتا جبینوں میں
کبھی اپنا بھی نظّارہ کیاہےتو نے اے مجنوں
کہ لیلیٰ کی طرح تو خود بھی ہے محمل نشینوں میں
مہینے وصل کے، گھڑیوں کی صورت اُڑتے جاتے ہیں
مگر گھڑیاں جُدائی کی گزرتی ہیں مہینوں میں
مجھے روکے گا تُو اے ناخدا کیا غرق ہونے سے
کہ جن کو ڈوبنا ہو، ڈوب جاتے ہیں سفینوں میں
چھُپایا حُسن کو اپنے کلیم اللہ سے جس نے
وہی ناز آفریں ہے جلوہ پیرا نازنینوں میں
جلا سکتی ہے شمعِ کشتہ کو موجِ نفَس ان کی
الٰہی! کیا چھُپا ہوتا ہے اہل دل کے سینوں میں
تمنّا دردِ دل کی ہو تو کر خدمت فقیروں کی
نہیں ملتا یہ گوہر بادشاہوں کے خزینوں میں
نہ پُوچھ ان خرقہ پوشوں کی، ارادت ہو تو دیکھ ان کو
یدِ بیضا لیے بیٹھے ہیں اپنی آستینوں میں
ترستی ہے نگاہِ نارسا جس کے نظارے کو
وہ رونق انجمن کی ہے انھی خلوت گزینوں میں
کسی ایسے شرر سے پھُونک اپنے خرمنِ دل کو
کہ خورشیدِ قیامت بھی ہو تیرے خوشہ چینوں میں
محبّت کے لیے دل ڈھُونڈ کوئی ٹُوٹنے والا
یہ وہ مے ہے جسے رکھتے ہیں نازک آبگینوں میں
سراپا حُسن بن جاتا ہے جس کے حُسن کا عاشق
بھلا اے دل حسیں ایسا بھی ہے کوئی حسیِنوں میں
پھڑک اُٹھا کوئی تیری ادائے مَا عَرَفْنا پر
ترا رُتبہ رہا بڑھ چڑھ کے سب ناز آفرینوں میں
نمایاں ہو کے دِکھلا دے کبھی ان کو جمال اپنا
بہت مدّت سے چرچے ہیں ترے باریک بینوں میں
خموش اے دل! بھری محفل میں چِلّانا نہیں اچھّا
ادب پہلا قرینہ ہے محبّت کے قرینوں میں
بُرا سمجھوں انھیں، مجھ سے تو ایسا ہو نہیں سکتا
کہ میں خود بھی تو ہوں اقبالؔ اپنے نُکتہ چینوں می

(ڈاکٹر علامہ محمد اقبال)

یہ علامہ محمد اقبال کی بانگِ درا (حصہ اول – 1905ء سے پہلے) کی ایک شاہکار غزل ہے۔ نیچے اس کی مکمل تشریح پیش ہے۔

:شاعر کا مختصر تعارف

ڈاکٹر علامہ محمد اقبال (1877ء – 1938ء) نہ صرف برصغیر پاک و ہند کے عظیم ترین شاعر تھے بلکہ ایک بلند پایہ مفکر، فلسفی اور حکیم الامت بھی تھے۔ آپ سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم وہیں حاصل کی، بعد ازاں اعلیٰ تعلیم کے لیے یورپ گئے۔ اقبال کی شاعری کا بنیادی مقصد مسلمانوں کو خوابِ غفلت سے بیدار

ی کرنا اور ان میں “خودی” (Self-hood) کا جذبہ بیدار کرنا تھا۔ ان کا کلام مایوسی کے خلاف امید کا پیغام ہے جو قرآن و سنت کی تعلیمات اور عشقِ رسولﷺ میں ڈوبا ہوا ہے۔ اقبال نے اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں لازوال شاعری کی ہے جس نے نہ صرف ادب بلکہ سیاسی اور سماجی سطح پر بھی انقلاب برپا کیا۔ ان کی شاعری میں حرکت، عمل، اور عشقِ حقیقی کے مضامین نمایاں ہیں۔

:اشعار کی تشریح

شعر نمبر 1

جنھیں میں ڈُھونڈتا تھا آسمانوں میں زمینوں میں
وہ نکلے میرے ظلمت خانۂ دل کے مکینوں میں

:مشکل الفاظ کے معانی
ظلمت خانہ: اندھیر نگری، مراد تاریک دل۔
مکین: رہنے والا، رہائشی۔

:مفہوم

جس ربِ کائنات کو میں زمین و آسمان کی وسعتوں میں تلاش کرتا پھر رہا تھا، جب حقیقت کھلی تو معلوم ہوا کہ وہ تو میرے اپنے ہی دل میں موجود ہے۔ انسان باہر کی دنیا میں خدا کو ڈھونڈتا ہے جبکہ وہ شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔

:تشریح

اس شعر میں اقبال فلسفہِ وحدت الوجود اور قربِ الٰہی کی بات کرتے ہیں۔ انسان اللہ تعالیٰ کی تلاش میں کائنات کے ذرے ذرے کو دیکھتا ہے، آسمانوں کی بلندیوں اور زمین کی تہوں میں اسے تلاش کرتا ہے، لیکن ناکام رہتا ہے۔ لیکن جب انسان اپنے اندر جھانکتا ہے اور اپنے دل کی دنیا کو ٹٹولتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کا اصل ٹھکانہ مومن کا دل ہے۔ اگرچہ دل دنیاوی خواہشات کی وجہ سے تاریک (ظلمت خانہ) ہو چکا تھا، لیکن اللہ کی موجودگی وہیں دریافت ہوئی۔
:حوالہ
دل کے آئینے میں ہے تصویرِ یار
جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی
(خواجہ درد)

شعر نمبر :2
حقیقت اپنی آنکھوں پر نمایاں جب ہوئی اپنی
مکاں نکلا ہمارے خانۂ دل کے مکینوں میں

:مشکل الفاظ کے معانی

* مکاں: جگہ، ٹھکانہ (یہاں مراد اللہ کی ذات ہے جو لامکاں ہے لیکن شاعرانہ انداز میں مکاں کہا گیا)۔
* خانۂ دل: دل کا گھر۔

:مفہوم

جب مجھ پر میری اپنی حقیقت اور معرفت کھلی تو مجھے یہ عجیب راز معلوم ہوا کہ جسے ہم مکان (کائنات کا خالق) سمجھتے ہیں، وہ تو ہمارے دل کے مکینوں (رہنے والوں) میں شامل ہے۔
:تشریح
یہ شعر انتہائی عارفانہ ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ جب مجھے خود شناسی (Self-realization) حاصل ہوئی تو میں نے دیکھا کہ وہ ذات جو پوری کائنات کو گھیرے ہوئے ہے، وہ میرے چھوٹے سے دل میں سما گئی ہے۔ صوفیاء کا قول ہے کہ “زمین و آسمان مجھے نہیں سما سکتے لیکن مومن کا دل مجھے سما لیتا ہے۔” یہ انسان کی عظمت کا بیان ہے کہ اس کا دل اللہ کا عرش ہے۔
: حوالہ
نہ تو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے
جہاں ہے تیرے لیے، تو نہیں جہاں کے لیے
(علامہ اقبال)

شعر نمبر :3

 اگر کچھ آشنا ہوتا مذاقِ جبَہہ سائی سے
 تو سنگِ آستانِ کعبہ جا مِلتا جبینوں میں

:مشکل الفاظ کے معانی

آشنا: واقف، جاننے والا۔
مذاقِ جبہ سائی: پیشانی رگڑنے (سجدہ کرنے) کا ذوق یا لطف۔
سنگِ آستانِ کعبہ: کعبہ کی چوکھٹ کا پتھر (حجرِ اسود)۔
جبین: ماتھا، پیشانی۔

:مفہوم

اگر کعبے کے پتھر کو یہ معلوم ہوتا کہ سچے مومن کے سجدے میں کتنا لطف اور سرور ہے، تو وہ پتھر خود اٹھ کر مومن کی پیشانی کو چومنے کے لیے آ جاتا۔

:تشریح

اقبال یہاں “اشرف المخلوقات” یعنی انسان کے مقام کو بیان کر رہے ہیں۔ عام طور پر انسان کعبہ کی چوکھٹ پر جا کر پیشانی رکھتا ہے۔ لیکن اقبال کہتے ہیں کہ اگر کعبہ کے پتھروں میں احساس ہوتا اور وہ سجدے کی لذت سے واقف ہوتے تو وہ خود تڑپ کر مومن کے ماتھے سے آ لگتے۔ یعنی مومن کی پیشانی (جہاں سجدہ ہوتا ہے) کا مقام کعبہ کے پتھروں سے بھی زیادہ بلند ہے۔

:حوالہ
مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
من اپنا پرانا پاپی ہے، برسوں میں نمازی بن نہ سکا
(علامہ اقبال)

شعر نمبر :4

کبھی اپنا بھی نظّارہ کیاہےتو نے اے مجنوں
 کہ لیلیٰ کی طرح تو خود بھی ہے محمل نشینوں میں

:مشکل الفاظ کے معانی

محمل نشین: کجاوے یا ڈولی میں بیٹھنے والا (مراد پردے میں چھپا ہوا محبوب)۔

:مفہوم

اے مجنوں (عاشق)! تو لیلیٰ کی تلاش میں صحراؤں میں کیوں بھٹک رہا ہے؟ کبھی اپنی ذات پر غور کر، کیونکہ جس طرح لیلیٰ پردے میں ہے، اسی طرح محبوبِ حقیقی تیرے اپنے اندر (پردے میں) موجود ہے۔

:تشریح

یہ شعر انسان کو اپنے اندر جھانکنے کی دعوت دیتا ہے۔ انسان خدا کو باہر تلاش کرتا ہے جیسے مجنوں لیلیٰ کے محمل (اونٹ پر رکھا جانے والا ڈولہ) کے پیچھے بھاگتا تھا۔ اقبال کہتے ہیں کہ اے انسان! تو خود ایک “محمل” ہے جس کے اندر تیرا محبوب (خدا کی ذات یا روحِ ایزدی) بیٹھا ہوا ہے۔ تجھے باہر بھاگنے کی ضرورت نہیں، اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی۔

:حوالہ 

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن، اپنا تو بن
(علامہ اقبال)

شعر نمبر 5
> مہینے وصل کے، گھڑیوں کی صورت اُڑتے جاتے ہیں
> مگر گھڑیاں جُدائی کی گزرتی ہیں مہینوں میں
>
مشکل الفاظ کے معانی:
* وصل: ملاقات، محبوب سے ملنا۔
* گھڑیاں: لمحات، وقت۔
مفہوم:
محبوب سے ملاقات کا وقت اتنی تیزی سے گزرتا ہے کہ مہینے گھڑیوں (منٹوں) کی طرح لگتے ہیں، لیکن جدائی کا وقت اتنا کٹھن ہوتا ہے کہ چند لمحے بھی مہینوں کی طرح طویل محسوس ہوتے ہیں۔
تشریح:
یہ انسانی نفسیات اور جذباتِ محبت کی بہترین عکاسی ہے۔ خوشی اور وصال کا وقت بہت مختصر محسوس ہوتا ہے کیونکہ انسان چاہتا ہے کہ یہ وقت کبھی ختم نہ ہو، اس لیے وقت کو جیسے پر لگ جاتے ہیں۔ اس کے برعکس ہجر اور انتظار کی کیفیت میں ایک ایک پل صدیوں پر محیط لگتا ہے اور وقت کاٹنا دوبھر ہو جاتا ہے۔
حوالہ:
> وہ آئے بزم میں اتنا تو ہم نے دیکھا میرؔ
> پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی
> (میر تقی میر)
>
شعر نمبر 6
> مجھے روکے گا تُو اے ناخدا کیا غرق ہونے سے
> کہ جن کو ڈوبنا ہو، ڈوب جاتے ہیں سفینوں میں
>
مشکل الفاظ کے معانی:
* ناخدا: ملاح، کشتی چلانے والا۔
* سفینوں: کشتیوں، جہازوں۔
مفہوم:
اے ملاح! تو مجھے ڈوبنے سے کیا بچائے گا؟ جس کی قسمت میں ڈوبنا (فنا ہونا) لکھا ہو، وہ تو مضبوط کشتیوں کے اندر بیٹھ کر بھی ڈوب جاتے ہیں۔
تشریح:
اس شعر میں “تقدیر” اور “عشق میں فنا” ہونے کا مضمون ہے۔ ظاہری مفہوم یہ ہے کہ موت اور زندگی اللہ کے ہاتھ میں ہے، اسباب (کشتی/ناخدا) کچھ نہیں کر سکتے۔ باطنی مفہوم یہ ہے کہ جو لوگ عشقِ حقیقی کے سمندر میں غرق ہونے کا ارادہ کر لیتے ہیں، انہیں کوئی سہارا یا تدبیر اس عشق سے باز نہیں رکھ سکتی۔ وہ حفاظت کے حصاروں (سفینوں) میں بھی خود کو مٹا دیتے ہیں۔
حوالہ:
> عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالبؔ
> کہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے
> (مرزا غالب)
>
شعر نمبر 7
> چھُپایا حُسن کو اپنے کلیم اللہ سے جس نے
> وہی ناز آفریں ہے جلوہ پیرا نازنینوں میں
>
مشکل الفاظ کے معانی:
* کلیم اللہ: حضرت موسیٰ علیہ السلام کا لقب (اللہ سے کلام کرنے والے)۔
* ناز آفریں: ناز پیدا کرنے والا (محبوب)۔
* جلوہ پیرا: ظاہر ہونے والا۔
* نازنینوں: حسین لوگوں میں (مراد یہاں خوبصورتی کے مظاہر یا محبوبِ حقیقی کا ہر شے میں ظہور)۔
مفہوم:
وہ ذات جس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کوہِ طور پر اپنا حسن چھپایا تھا (یا وہ برداشت نہ کر سکے تھے)، آج وہی ذات کائنات کے ہر حسین چہرے اور ہر خوبصورت شے میں اپنا جلوہ دکھا رہی ہے۔
تشریح:
حضرت موسیٰؑ نے اللہ کو دیکھنے کی خواہش کی تھی لیکن تجلی کی تاب نہ لا سکے اور بے ہوش ہو گئے۔ اقبال کہتے ہیں کہ وہ ذات جو وہاں “جلال” کی وجہ سے نظر نہ آئی، اب کائنات میں اپنے “جمال” کے ذریعے ہر طرف موجود ہے۔ ہر حسین چیز میں اسی کا حسن جھلک رہا ہے۔ یہ وحدت الشہود کا بہت لطیف بیان ہے۔
حوالہ:
> ہر رنگ میں تو، ہر ڈھنگ میں تو
> جس روپ میں دیکھوں میں، لگتا ہے کہ ہے تو
>
شعر نمبر 8
> جلا سکتی ہے شمعِ کشتہ کو موجِ نفَس ان کی
> الٰہی! کیا چھُپا ہوتا ہے اہل دل کے سینوں میں
>
مشکل الفاظ کے معانی:
* شمعِ کشتہ: بجھی ہوئی شمع (مراد مردہ دل)۔
* موجِ نفس: سانس کی لہر (مراد بات، توجہ یا پھونک)۔
مفہوم:
اللہ والوں کی ایک سانس یا توجہ بجھی ہوئی شمع کو دوبارہ روشن کر سکتی ہے (یعنی مردہ دلوں کو زندہ کر سکتی ہے)۔ اے اللہ! ان اہلِ دل کے سینوں میں کیا طاقت اور راز چھپا ہوتا ہے؟
تشریح:
یہاں “اہلِ دل” یعنی اولیاء کرام اور مرشدِ کامل کی تاثیر کا ذکر ہے۔ ان کی صحبت اور ان کی گفتگو میں وہ تاثیر ہوتی ہے کہ وہ مایوس اور ایمان سے خالی (بجھے ہوئے) دلوں میں دوبارہ عشقِ الٰہی کی شمع روشن کر دیتے ہیں۔ اقبال اس روحانی طاقت پر حیرت اور تحسین کا اظہار کر رہے ہیں۔
حوالہ:
> نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
> جو ہو ذوقِ یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
> (علامہ اقبال)
>
شعر نمبر 9
> تمنّا دردِ دل کی ہو تو کر خدمت فقیروں کی
> نہیں ملتا یہ گوہر بادشاہوں کے خزینوں میں
>
مشکل الفاظ کے معانی:
* دردِ دل: عشقِ الٰہی، انسانی ہمدردی، سوز و گداز۔
* گوہر: موتی (مراد قیمتی دولت)۔
* خزینوں: خزانوں۔
مفہوم:
اگر تجھے سچے عشق اور دل کے سوز کی خواہش ہے تو درویشوں اور فقیروں کی صحبت اختیار کر۔ یہ دولت بادشاہوں کے خزانوں میں نہیں بلکہ اللہ والوں کی محفل میں ملتی ہے۔
تشریح:
دنیاوی دولت بادشاہوں کے پاس ہو سکتی ہے لیکن روحانی دولت اور “دل کا سکون/عشق” صرف ان لوگوں کے پاس ملتا ہے جنہوں نے دنیا کو ترک کر کے اللہ کو پا لیا ہو۔ فقیروں کی جوتیاں سیدھی کرنے میں جو روحانی فیض ہے، وہ شاہی محلوں میں نہیں ہے۔
حوالہ:
> نہ تخت و تاج میں نے لشکر و سپاہ میں ہے
> جو بات مردِ قلندر کی بارگاہ میں ہے
> (علامہ اقبال)
>
شعر نمبر 10
> نہ پُوچھ ان خرقہ پوشوں کی، ارادت ہو تو دیکھ ان کو
> یدِ بیضا لیے بیٹھے ہیں اپنی آستینوں میں
>
مشکل الفاظ کے معانی:
* خرقہ پوش: پھٹے پرانے کپڑے پہننے والے (صوفیاء/درویش)۔
* ارادت: عقیدت، چاہت۔
* یدِ بیضا: حضرت موسیٰؑ کا معجزہ جب وہ ہاتھ گریبان میں ڈال کر نکالتے تو وہ سورج کی طرح چمکتا تھا۔
مفہوم:
ان پھٹے پرانے کپڑوں والوں کو حقارت سے نہ دیکھ، اگر عقیدت کی نظر سے دیکھے تو تجھے معلوم ہو کہ یہ اپنی آستینوں میں “یدِ بیضا” جیسا معجزہ لیے بیٹھے ہیں (یعنی یہ صاحبِ کرامت لوگ ہیں)۔
تشریح:
ظاہر پرست لوگ فقیروں کے لباس کو دیکھ کر انہیں معمولی سمجھتے ہیں۔ اقبال کہتے ہیں کہ یہ بظاہر کمزور اور غریب نظر آنے والے لوگ باطنی طور پر اتنے طاقتور ہیں کہ ان کے پاس حضرت موسیٰؑ جیسی روحانی قوت موجود ہے۔ یہ اپنی نگاہ اور عمل سے معاشرے کی کایا پلٹ سکتے ہیں۔
حوالہ:
> کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زورِ بازو کا
> نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
> (علامہ اقبال)
>
شعر نمبر 11
> ترستی ہے نگاہِ نارسا جس کے نظارے کو
> وہ رونق انجمن کی ہے انھی خلوت گزینوں میں
>
مشکل الفاظ کے معانی:
* نگاہِ نارسا: وہ نظر جو پہنچ نہ سکے (کمزور نظر)۔
* خلوت گزینوں: تنہائی پسند لوگ، گوشہ نشین۔
مفہوم:
جس حقیقت کو دیکھنے کے لیے دنیا کی نگاہیں ترستی ہیں اور نہیں دیکھ پاتیں، اس محفل (کائنات) کی وہ اصل رونق انہی تنہائی پسند اللہ والوں کے اندر موجود ہے۔
تشریح:
دنیا والے ظاہری ہنگاموں میں رونق تلاش کرتے ہیں، جبکہ اصل حقیقت اور نور ان لوگوں کے پاس ہے جو خلوت (تنہائی) میں بیٹھ کر اللہ کو یاد کرتے ہیں۔ یہ گوشہ نشین ہی دراصل انجمنِ کائنات کی جان ہیں۔
شعر نمبر 12
> کسی ایسے شرر سے پھُونک اپنے خرمنِ دل کو
> کہ خورشیدِ قیامت بھی ہو تیرے خوشہ چینوں میں
>
مشکل الفاظ کے معانی:
* شرر: چنگاری۔
* خرمنِ دل: دل کی کھیتی (مراد دل کی دنیا)۔
* خوشہ چین: وہ غریب جو فصل کٹنے کے بعد گرے پڑے دانے چنتا ہے (مراد محتاج)۔
* خورشیدِ قیامت: قیامت کے دن کا سورج (جو بہت گرم اور روشن ہوگا)۔
مفہوم:
اپنے دل میں عشق کی ایسی آگ لگا دے کہ قیامت کا سورج بھی تیری تپش اور روشنی کے سامنے بھکاری بن کر کھڑا ہو (یعنی تیرا مقام سورج سے بھی بلند ہو جائے)۔
تشریح:
یہ شعر خودی اور عشق کی انتہا ہے۔ اقبال نوجوانوں کو کہتے ہیں کہ اپنے اندر ایسا جذبہ اور عشق پیدا کرو کہ تمہاری روحانی روشنی اتنی زیادہ ہو جائے کہ قیامت کا سورج، جو اپنی تپش کے لیے مشہور ہے، وہ بھی تم سے روشنی مانگتا پھرے۔ یہ مومن کی عظمت کا بیان ہے۔
شعر نمبر 13
> محبّت کے لیے دل ڈھُونڈ کوئی ٹُوٹنے والا
> یہ وہ مے ہے جسے رکھتے ہیں نازک آبگینوں میں
>
مشکل الفاظ کے معانی:
* مے: شراب (مراد عشق)۔
* آبگینوں: شیشے کے برتن/جام۔
مفہوم:
محبت رکھنے کے لیے ایسا دل تلاش کر جو ٹوٹنے والا ہو (نرم اور گداز ہو)، کیونکہ محبت وہ نازک شراب ہے جسے صرف نازک آبگینوں (ٹوٹے ہوئے دلوں) میں ہی رکھا جا سکتا ہے۔
تشریح:
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ “میں ٹوٹے ہوئے دلوں میں رہتا ہوں۔” اقبال بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ عشق اور محبت سخت پتھر جیسے دلوں میں نہیں سما سکتے۔ اس کے لیے دل میں عاجزی، انکساری اور گداز ہونا ضروری ہے۔ جس دل میں درد اور کسک نہ ہو، وہاں محبت قیام نہیں کرتی۔
حوالہ:
> میں ٹوٹتا ہوں تو جڑتا ہے تیرا نقشِ وفا
> وہ آئینہ ہوں کہ ٹوٹے تو اعتبار بڑھے
>
شعر نمبر 14
> سراپا حُسن بن جاتا ہے جس کے حُسن کا عاشق
> بھلا اے دل حسیں ایسا بھی ہے کوئی حسیِنوں میں
>
مفہوم:
اے دل! کیا دنیا کے حسینوں میں کوئی ایسا محبوب بھی ہے جس کا عاشق خود اسی کے جیسا حسین بن جائے؟ (یہ صرف اللہ کی ذات ہے کہ جس کا عاشق اس کے رنگ میں رنگ جاتا ہے)۔
تشریح:
دنیاوی عشق میں عاشق کی حالت خراب ہو جاتی ہے، چہرہ زرد اور حلیہ بگڑ جاتا ہے۔ لیکن عشقِ حقیقی (اللہ سے عشق) کا معاملہ الٹ ہے۔ جو اللہ سے محبت کرتا ہے، اللہ اسے اپنا نور عطا کرتا ہے اور وہ شخص خود سراپا حسن و خیر بن جاتا ہے۔ “صبغۃ اللہ” (اللہ کا رنگ) اس پر چڑھ جاتا ہے۔
شعر نمبر 15
> پھڑک اُٹھا کوئی تیری ادائے مَا عَرَفْنا پر
> ترا رُتبہ رہا بڑھ چڑھ کے سب ناز آفرینوں میں
>
مشکل الفاظ کے معانی:
* مَا عَرَفْنا: (مَا عَرَفْنَاکَ حَقَّ مَعْرِفَتِکَ) یہ ایک قول کی طرف اشارہ ہے جس کا مطلب ہے “ہم نے تجھے (اے اللہ) ویسا نہیں پہچانا جیسا پہچاننے کا حق تھا۔”
* پھڑک اٹھنا: وجد میں آنا، بہت خوش ہونا۔
مفہوم:
اے اللہ! تیرے محبوبؐ نے جب عاجزی سے کہا کہ “ہم تجھے ویسا نہ پہچان سکے جیسا حق تھا”، تو اس عاجزی پر توُ خود بھی وجد میں آ گیا (یعنی یہ ادا بہت پسند آئی) اور اسی عاجزی کی وجہ سے انسان کا رتبہ تمام مخلوقات سے بڑھ گیا۔
تشریح:
یہاں عاجزی کی معراج کا ذکر ہے۔ جتنا بڑا عارف ہوتا ہے، وہ اتنا ہی عاجز ہوتا ہے۔ نبی کریمﷺ سب سے بڑے عارف ہیں، پھر بھی انہوں نے عاجزی کا اظہار کیا۔ یہ ادا بارگاہِ الٰہی میں اتنی مقبول ہوئی کہ انسان کا مقام فرشتوں اور دیگر تمام مخلوقات سے بلند ہو گیا۔
شعر نمبر 16
> نمایاں ہو کے دِکھلا دے کبھی ان کو جمال اپنا
> بہت مدّت سے چرچے ہیں ترے باریک بینوں میں
>
مشکل الفاظ کے معانی:
* باریک بین: گہری نظر رکھنے والے (فلسفی، منطقی لوگ)۔
مفہوم:
اے رب! جو فلسفی اور دانشور صرف تیرے بارے میں باتیں کرتے ہیں اور بحثیں کرتے ہیں (لیکن تجھے دیکھا نہیں)، کبھی ظاہر ہو کر انہیں اپنا اصل جلوہ دکھا دے تاکہ ان کی بحثیں ختم ہو جائیں اور انہیں یقین آ جائے۔
تشریح:
فلسفی خدا کو دلیلوں سے ڈھونڈتے ہیں، جبکہ صوفی مشاہدے سے۔ اقبال دعا کر رہے ہیں کہ اے اللہ! ان عقل والوں پر بھی اپنے جلوے ظاہر کر دے تاکہ یہ قیاس آرائیوں سے نکل کر مشاہدہِ حق کی لذت پا سکیں۔
شعر نمبر 17
> خموش اے دل! بھری محفل میں چِلّانا نہیں اچھّا
> ادب پہلا قرینہ ہے محبّت کے قرینوں میں
>
مشکل الفاظ کے معانی:
* قرینہ: طریقہ، سلیقہ، اصول۔
مفہوم:
اے میرے دل! خاموش ہو جا، رازِ عشق کو بھری محفل میں شور مچا کر بیان کرنا مناسب نہیں۔ یاد رکھ کہ محبت کے آداب میں سب سے پہلا اصول “ادب” اور راز داری ہے۔
تشریح:
عشق کا تقاضا ہے کہ محبوب کے رازوں کی حفاظت کی جائے۔ شور مچانا اور دعوے کرنا کم ظرفی ہے۔ اقبال اپنے دل کو سمجھا رہے ہیں کہ خاموشی اور ادب ہی سچی محبت کی دلیل ہے۔ با ادب بانصیب، بے ادب بے نصیب۔
حوالہ:
> خاموشی گفتگو ہے، بے زبانی ہے زباں میری
> (علامہ اقبال)
>
شعر نمبر 18 (مقطع)
> بُرا سمجھوں انھیں، مجھ سے تو ایسا ہو نہیں سکتا
> کہ میں خود بھی تو ہوں اقبالؔ اپنے نُکتہ چینوں میں
>
مشکل الفاظ کے معانی:
* نکتہ چین: تنقید کرنے والے، خامیاں نکالنے والے۔
مفہوم:
اقبال کہتے ہیں کہ میں اپنے تنقید کرنے والوں کو برا نہیں کہہ سکتا، کیونکہ میں تو خود اپنی ذات پر سب سے زیادہ تنقید کرتا ہوں اور اپنی خامیوں پر نظر رکھتا ہوں۔
تشریح:
یہ شعر اقبال کی انتہائی عاجزی اور خود احتسابی کا نمونہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ دوسرے مجھ میں کیا کیڑے نکالیں گے، میں خود اپنی اصلاح کے لیے ہر وقت اپنی ذات کا محاسبہ کرتا رہتا ہوں۔ جو شخص اپنی خامیوں پر نظر رکھتا ہے، اسے دوسروں کی تنقید بری نہیں لگتی بلکہ وہ اسے اصلاح کا ذریعہ سمجھتا ہے۔
غزل کی مجموعی تشریح (اختتامیہ)
علامہ اقبال کی یہ غزل ان کے ابتدائی دور کی شاعری (بانگِ درا) کا ایک حسین مرقع ہے، جس میں روایتی “زاہد اور رند” کی کشمکش کے بجائے حقیقتِ حق اور مقامِ انسانیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اس پوری غزل میں مرکزی خیال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو باہر کی دنیا میں تلاش کرنے کے بجائے اپنے دل کے اندر تلاش کرنا چاہیے۔ اقبال نے انسان کو اس کی عظمت یاد دلائی ہے کہ اگر وہ اپنے دل کو پاک کر لے تو وہ کائنات کا مرکز و محور بن سکتا ہے۔ اس میں عشق، خودی، اور فقر کے مضامین کو بڑی خوبصورتی سے پرویا گیا ہے۔
دوسرے پیراگراف کے طور پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس غزل میں اقبال کا لہجہ ایک سچے متلاشی اور عاشق کا ہے۔ وہ کبھی عقل والوں (باریک بینوں) پر طنز کرتے ہیں اور کبھی “اہلِ دل” اور “خرقہ پوشوں” کی عظمت بیان کرتے ہیں جن کے پاس روحانی طاقت ہے۔ آخر میں وہ عاجزی کا درس دیتے ہوئے محبت میں ادب اور خاموشی کو لازم قرار دیتے ہیں۔ یہ غزل صوفیانہ افکار اور شاعرانہ لطافت کا ایک بہترین امتزاج ہے جو قاری کے دل میں تڑپ اور جستجو پیدا کرتی ہے۔


Discover more from The First Info

Subscribe to get the latest posts sent to your email.