نظم: جوابِ شکوہ (منتخب بند)
یہ نظم 1913ء میں لکھی گئی۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں کے شکوے کا جواب دیا گیا ہے اور ان کے زوال کی حقیقی وجوہات بتائی گئی ہیں۔
:بند نمبر 1 (دعا کی قبولیت)
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں، طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے
قدسی الاصل ہے، رفعت پہ نظر رکھتی ہے
خاک سے اُٹھتی ہے، گردُوں پہ گزر رکھتی ہے
عشق تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک مرا
آسماں چیر گیا نالۂ بے باک مرا
:مشکل الفاظ کے معانی
قدسی الاصل: جس کی بنیاد پاکیزہ ہو
رفعت: بلندی
گردُوں: آسمان
نالۂ بے باک: نڈر فریاد
:مفہوم
جو بات سچے دل سے نکلتی ہے، اس میں ضرور تاثیر ہوتی ہے۔ اگرچہ اس کے ظاہری پر نہیں ہوتے لیکن وہ آسمانوں تک اڑنے کی طاقت رکھتی ہے۔ میری فریاد زمین سے اٹھی تھی لیکن عرش تک پہنچ گئی کیونکہ میرے عشق اور درد میں سچائی تھی جس نے آسمانوں کو چیر دیا۔
:تشریح
اقبال “جوابِ شکوہ” کا آغاز اس یقین دہانی سے کرتے ہیں کہ اللہ بندے کی پکار سنتا ہے۔ چونکہ “شکوہ” والی نظم محض شاعری نہیں تھی بلکہ قوم کے درد میں ڈوبی ہوئی ایک سچی پکار تھی، اس لیے وہ فوراً بارگاہِ الٰہی میں قبول ہو گئی۔ اس بند میں دعا کے آداب اور تاثیر کا فلسفہ بیان کیا گیا ہے کہ خلوصِ نیت ہو تو آواز عرشِ معلیٰ تک پہنچتی ہے۔
:حوالہ (قول)
حدیث نبوی ﷺ ہے: “مظلوم کی بددعا سے ڈرو، کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا۔”
بند نمبر 2 (اللہ کا جواب: موازنہ)
منفعت ایک ہے اس قوم کی، نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبیؐ، دین بھی، ایمان بھی ایک
حرمِ پاک بھی، اللہ بھی، قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک
فرقہ بندی ہے کہیں، اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟
:مشکل الفاظ کے معانی
منفعت: فائدہ
حرمِ پاک: خانہ کعبہ
پنپنے: ترقی کرنے، پھلنے پھولنے
:مفہوم
مسلمانوں کا فائدہ اور نقصان سانجھا ہے۔ تمہارا نبیؐ، تمہارا دین، تمہارا ایمان، تمہارا کعبہ اور تمہارا خدا سب ایک ہیں، تو پھر تم آپس میں ایک کیوں نہیں؟ تم فرقوں اور ذاتوں میں بٹ چکے ہو۔ کیا دنیا میں ترقی کرنے کا یہی طریقہ ہے؟
:تشریح
اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو آئینہ دکھا رہے ہیں۔ شکوہ یہ تھا کہ ہم ذلیل کیوں ہیں؟ جواب یہ ملا کہ تم بکھر چکے ہو۔ تمہاری وحدت کی بنیادیں (اللہ، رسولؐ، قرآن) ایک تھیں، لیکن تم نے خود کو شیعہ، سنی، وہابی اور ذات پات میں تقسیم کر لیا۔ جب تم خود ایک دوسرے کے دشمن ہو تو تم دنیا پر حکمرانی کیسے کر سکتے ہو؟ یہ بند اتحادِ امت کا سب سے بڑا درس ہے۔
:حوالہ
ایک ہو جائیں تو بن سکتے ہیں خورشیدِ مبیں
ورنہ ان بکھرے ہوئے تاروں سے کیا بات بنے
(علامہ اقبال)
:بند نمبر 3 (اسلاف سے موازنہ)
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر
تم ہو آپس میں غضبناک، وہ آپس میں رحیم
تم خطاکار و خطابیں، وہ خطا پوش و کریم
چاہتے سب ہیں کہ ہوں اوجِ ثریّا پہ مقیم
پہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلبِ سلیم
:مشکل الفاظ کے معانی
معزز: عزت دار
خوار: ذلیل
تارکِ قرآں: قرآن کو چھوڑنے والے
غضبناک: غصے والے (آپس میں لڑنے والے)
اوجِ ثریا: ستاروں کی بلندی
قلبِ سلیم: پاک دل
:مفہوم
تمہارے بزرگ دنیا میں عزت دار تھے کیونکہ وہ پکے مسلمان تھے، اور تم ذلیل ہو رہے ہو کیونکہ تم نے قرآن کو چھوڑ دیا ہے۔ وہ بزرگ آپس میں محبت کرتے تھے اور تم آپس میں لڑتے ہو۔ تم بلندی چاہتے ہو تو پہلے اپنے اندر ان جیسا پاک دل اور کردار تو پیدا کرو۔
:تشریح
یہ پوری نظم کا نچوڑ ہے۔ اللہ فرماتا ہے کہ میرا قانون نہیں بدلا، تم بدل گئے ہو۔ تم ان بزرگوں کا نام بیچ رہے ہو لیکن ان کے کام نہیں اپناتے۔ انہوں نے قرآن پر عمل کیا تو دنیا ان کے قدموں میں تھی، تم نے قرآن کو صرف طاقوں میں سجا دیا اور عمل چھوڑ دیا، اس لیے ذلت تمہارا مقدر بنی۔ “خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی…” والا اصول یہاں لاگو ہوتا ہے۔
:بند نمبر 4 (اختتامیہ)
عقل ہے تیری سپر، عشق ہے شمشیر تری
مرے درویش! خلافت ہے جہانگیر تری
ما سوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تری
تو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تری
کی محمدؐ سے وفا تُو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں
:مشکل الفاظ کے معانی
سپر: ڈھال۔
خلافت: حکمرانی۔
ما سوا اللہ: اللہ کے سوا (باطل قوتیں)۔
لوح و قلم: تقدیر لکھنے کی تختی اور قلم (کائنات کا اختیار)۔
:مفہوم
اے مسلمان! عقل کو اپنی ڈھال اور عشقِ رسولؐ کو اپنی تلوار بنا لے۔ یہ خلافت اور حکمرانی تیری ہی میراث ہے۔ تیری تکبیر (اللہ اکبر) باطل کے لیے آگ ہے۔ اگر تو سچا مسلمان بن جائے تو تیری تدبیر ہی تقدیر بن جائے گی۔ اور آخری فیصلہ یہ ہے کہ اگر تم حضرت محمدؐ سے وفاداری کرو گے (ان کی سنت پر چلو گے)، تو یہ دنیا کیا چیز ہے، ہم کائنات کی تقدیر بھی تمہارے ہاتھ میں دے دیں گے۔
:تشریح
نظم کا اختتام انتہائی پرامید اور بصیرت افروز ہے۔ اقبال بتاتے ہیں کہ مسلمانوں کی کھوئی ہوئی عزت واپس مل سکتی ہے، لیکن اس کی صرف ایک شرط ہے: “عشقِ رسولؐ اور اتباعِ رسولؐ”۔ اگر مسلمان حضور اکرم ﷺ کے اسوہ حسنہ کو اپنی زندگیوں میں نافذ کر لیں، تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ انہیں دوبارہ دنیا کی امامت سونپ دے گا۔ آخری شعر اردو شاعری کے مشہور ترین اشعار میں سے ایک ہے جو ہر مسلمان کے ایمان کو تازہ کر دیتا ہے۔
:حوالہ
قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسمِ محمدؐ سے اجالا کر دے
(علامہ اقبال)
:جوابِ شکوہ کا مرکزی خیال
“جوابِ شکوہ” میں علامہ اقبال نے ایک مصلح، ایک طبیب اور ایک رہنما کا کردار ادا کیا ہے۔ جہاں “شکوہ” میں جذبات اور شکایت تھی، وہیں “جوابِ شکوہ” میں سنجیدگی، تشخیص اور علاج ہے۔ اقبال نے واضح کیا کہ اسلام میں نسل پرستی یا حسب نسب کی کوئی اہمیت نہیں، اصل اہمیت “عمل” اور “کردار” کی ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو جھنجھوڑا کہ تم صرف نام کے مسلمان رہ گئے ہو، تمہارے اندر روحِ بلالی اور فلسفہِ حسینؓ باقی نہیں رہا۔
اس نظم کا کلائمیکس آخری بند ہے جہاں تمام مسائل کا ایک ہی حل بتایا گیا ہے اور وہ ہے “دامنِ مصطفیٰ ﷺ” کو مضبوطی سے تھام لینا۔ اقبال کا پیغام یہ ہے کہ اللہ کی مدد آج بھی آ سکتی ہے، شرط یہ ہے کہ مسلمان پہلے خود کو اس مدد کا اہل ثابت کریں۔ یہ نظم مایوسی کے اندھیروں میں امید کا ایک روشن چراغ ہے۔
Discover more from The First Info
Subscribe to get the latest posts sent to your email.