علامہ اقبال کی نظم “شکوہ”

علامہ اقبال کی نظم “شکوہ”

علامہ اقبال کی شہرہ آفاق نظم”شکوہ” 31 بند پر مشتمل ہے اور “جوابِ شکوہ” (36 بند) پر مشتمل ہے۔ دونوں بہت طویل نظمیں ہیں، اس لیے دونوں نظموں کے منتخب اور سب سے اہم بند کی تشریح پیش کر رہا ہوں۔ ان بندوں کا انتخاب اس طرح کیا گیا ہے کہ نظم کا آغاز، وسط اور اختتام سب کور ہو جائے اور پوری کہانی سمجھ میں آ جائے۔

 شاعر کا تعارف (علامہ محمد اقبال)

ڈاکٹر علامہ محمد اقبال (1877ء – 1938ء) برصغیر پاک و ہند کے عظیم ترین شاعر، مفکر اور حکیم الامت تھے۔ آپ سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اور اعلیٰ تعلیم کے لیے یورپ گئے جہاں سے فلسفہ اور قانون کی ڈگریاں حاصل کیں۔ اقبال کی شاعری محض جذبات کا اظہار نہیں بلکہ ایک مکمل فلسفہِ حیات ہے جس کا مرکز “خودی” ہے۔ انہوں نے سوئی ہوئی مسلم قوم کو بیدار کرنے کے لیے اردو اور فارسی میں ایسی پُر اثر شاعری کی جس نے لوگوں کے دلوں میں آزادی کی تڑپ پیدا کی۔ ان کا کلام قرآن و سنت کی تعلیمات اور عشقِ رسولﷺ کے رنگ میں رنگا ہوا ہے۔ اقبال مایوسی کے سخت خلاف تھے اور ان کا پیغام عمل، حرکت اور مسلسل جدوجہد کا پیغام ہے۔ انہیں پاکستان کا قومی شاعر اور “مصورِ پاکستان” بھی کہا جاتا ہے۔

نظم: شکوہ (منتخب بند)

یہ نظم 1911ء میں لکھی گئی۔ اس میں ایک مایوس مسلمان اللہ تعالیٰ سے شکایت کر رہا ہے کہ تیرا نام بلند کرنے کے باوجود ہم ذلیل و رسوا کیوں ہیں؟

بند نمبر 1 (آغاز)

کیوں زیاں کار بنوں، سُود فراموش رہوں
فکرِ فردا نہ کروں، محوِ غمِ دوش رہوں
نالے بُلبُل کے سُنوں اور ہمہ تن گوش رہوں
ہم نوا! میں بھی کوئی گُل ہوں کہ خاموش رہوں
جرات آموز مری تابِ سخن ہے مجھ کو
شکوہ اللہ سے، خاکم بدہن، ہے مجھ کو

مشکل الفاظ کے معانی:

زیاں کار: نقصان اٹھانے والا۔
سود فراموش: نفع بھلا دینے والا، فائدہ نہ سوچنے والا۔
محوِ غمِ دوش: گزرے ہوئے کل کے غم میں ڈوبا ہوا۔
ہمہ تن گوش: پوری توجہ سے سننا۔
خاکم بدہن: میرے منہ میں خاک (یہ کلمہ ادب کے خلاف بات کہنے سے پہلے بطور معذرت بولا جاتا ہے)۔

مفہوم:

میں کیوں خاموش رہ کر اپنا نقصان کروں اور اپنے مستقبل سے بے پروا ہو جاؤں؟ میں دوسرے شاعروں (بلبل) کی طرح صرف روایتی فریادیں کیوں سنتا رہوں؟ میں کوئی بے جان پھول نہیں ہوں جو بول نہ سکے، میرے اندر بولنے کی جرات ہے۔ اس لیے میں اللہ تعالیٰ سے اپنی بدحالی کا شکوہ کرنے لگا ہوں (اللہ میری اس گستاخی کو معاف کرے)۔

تشریح:

اقبال اس بند سے نظم کا آغاز کرتے ہیں۔ روایتی طور پر مسلمان کا شیوہ “صبر اور شکر” ہے، لیکن یہاں شاعر کے جذبات اتنے شدید ہیں کہ وہ خاموشی کا قفل توڑ دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اب حالات ایسے ہو چکے ہیں کہ خاموش رہنا نقصان دہ ہے۔ “خاکم بدہن” کہہ کر وہ پہلے ہی معذرت کر لیتے ہیں کہ میں جو بات کرنے جا رہا ہوں وہ بظاہر بے ادبی لگتی ہے لیکن یہ میرے دکھی دل کی آواز ہے۔ یہ ایک عاشق کا اپنے محبوب (اللہ) سے شکوہ ہے جو درحقیقت اپنا حق مانگنے کی ایک فریاد ہے۔

حوالہ:

خاموش اے دل! بھری محفل میں چلانا نہیں اچھا
ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں
(علامہ اقبال )

بند نمبر 2 (مسلمانوں کا ماضی):

صفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا کس نے؟
نوعِ انساں کو غلامی سے چھڑایا کس نے؟
میرے کعبے کو جبینوں سے بسایا کس نے؟
میرے قرآن کو سینوں سے لگایا کس نے؟
تھے تو آبا وہ تمہارے ہی، مگر تم کیا ہو؟
ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہو

مشکل الفاظ کے معانی:

صفحۂ دہر: دنیا کا صفحہ۔
باطل: جھوٹ، کفر۔
نوعِ انساں: انسانی نسل۔
جبینوں: ماتھوں (سجدوں)۔
منتظرِ فردا: کل (مستقبل) کا انتظار کرنے والے۔

مفہوم:

اس دنیا سے کفر اور شرک کو کس نے ختم کیا؟ انسانوں کو کس نے جھوٹے خداؤں کی غلامی سے نجات دلائی؟ کس نے کعبہ کو سجدوں سے آباد کیا اور قرآن کی حفاظت کی؟ یہ سب کام ہم مسلمانوں نے کیے۔ (آخری دو مصرعوں میں طنز ہے کہ یہ سب تمہارے باپ دادا نے کیا، تم خود کچھ نہیں کر رہے)۔

تشریح:

اس بند میں اقبال اللہ تعالیٰ کو یاد دلا رہے ہیں کہ جب پوری دنیا کفر میں ڈوبی ہوئی تھی، تب یہ مسلمان ہی تھے جنہوں نے تیرا پیغام عام کیا۔ مسلمانوں نے قیصر و کسریٰ کے ظلم سے انسانیت کو نجات دلائی۔ کعبہ جو بتوں سے بھرا تھا، اسے ہم نے پاک کیا۔ یہ فخریہ انداز ہے جس میں بتایا جا رہا ہے کہ ہم تیرے وفادار سپاہی رہے ہیں۔ آخری شعر میں اقبال ایک لطیف اشارہ کرتے ہیں کہ یہ کارنامے ہمارے بزرگوں کے تھے، مگر اللہ سے شکوہ یہ ہے کہ ان بزرگوں کی لاج رکھتے ہوئے ہمیں بھی انعام ملنا چاہیے تھا۔

حوالہ:

نقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نے
زیرِ خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نے
(علامہ اقبال – شکوہ)

بند نمبر 3 (مرکزی شکوہ)

رحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پر
برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر
بُت صنم خانوں میں کہتے ہیں مسلماں گئے
ہے خوشی ان کو کہ کعبے کے نگہباں گئے
منزلِ دہر سے اونٹوں کے حدی خواں گئے
اپنی بغلوں میں دبائے ہوئے قرآن گئے

مشکل الفاظ کے معانی:

اغیار: غیر لوگ (کفار)۔
کاشانوں: گھروں۔
برق: بجلی (مصیبت)۔
حدی خواں: اونٹ چلاتے وقت گیت گانے والے (مراد عرب کے مسلمان)۔
مفہوم:
اے اللہ! تیری رحمتیں تو غیر مسلموں کے گھروں پر برس رہی ہیں، وہ خوشحال ہیں، لیکن جب آسمانی آفت آتی ہے تو وہ صرف ہم مسلمانوں پر گرتی ہے۔ آج بت خانے میں بت خوش ہیں کہ مسلمانوں کا زوال ہو رہا ہے اور وہ ختم ہو رہے ہیں۔ وہ قوم جو قرآن کو سینے سے لگائے پھرتی تھی، آج دنیا سے رخصت ہو رہی ہے۔
تشریح:
یہ نظم کا سب سے دکھی حصہ ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ دنیا کا نظام الٹ گیا ہے۔ جو تیرے منکر ہیں وہ عیش و عشرت میں ہیں، انہیں دنیا کی ہر نعمت میسر ہے۔ اور جو تیرے نام لیوا ہیں، وہ زلزلوں، جنگوں اور غربت کا شکار ہیں۔ یہ کیسا انصاف ہے؟ غیر مسلم ہماری تباہی پر خوشیاں منا رہے ہیں کہ کعبہ کے محافظ ختم ہو رہے ہیں۔ یہ شکوہ دراصل اللہ کی غیرت کو جوش دلانے کے لیے ہے۔
حوالہ:
یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے
صنم کدہ ہے جہاں، لا الہ الا اللہ
(علامہ اقبال)
نظم شکوہ کا مرکزی خیال:
نظم “شکوہ” دراصل مسلمانوں کے اجتماعی لاشعور کی آواز تھی۔ اس نظم میں اقبال نے مسلمانوں کے تابناک ماضی کی تصویر کشی کی اور بتایا کہ ہم وہی قوم ہیں جنہوں نے سمندروں اور پہاڑوں کو عبور کر کے توحید کا پرچم لہرایا۔ لیکن پھر انتہائی درد مندی سے یہ سوال اٹھایا کہ اتنی قربانیوں کے باوجود آج مسلمان دنیا میں رسوا کیوں ہیں؟
اس نظم کا لہجہ بظاہر شکوہ آمیز اور گستاخانہ لگتا ہے لیکن اس کی تہہ میں شدید محبت اور درد چھپا ہے۔ یہ ایک بچے کی طرح ہے جو اپنی تکلیف پر ماں باپ سے روٹھ جاتا ہے۔ اقبال نے اس نظم کے ذریعے مسلمانوں کو احساس دلایا کہ وہ کیا تھے اور اب کیا ہو گئے ہیں۔ یہ نظم مایوسی پر ختم نہیں ہوتی بلکہ ایک امید پر ختم ہوتی ہے کہ شاید یہ فریاد سن لی جائے۔


Discover more from The First Info

Subscribe to get the latest posts sent to your email.