قبضہ ہو دلوں پر کیا اور اس سے سوا تیرا
یہ مولانا الطاف حسین حالی کی وہ شہرہ آفاق حمدیہ غزل ہے جو اپنی سادگی، تاثیر اور گہرائی کی وجہ سے اردو ادب میں ایک بلند مقام رکھتی ہے۔
1۔ شاعر کا مختصر تعارف
مولانا الطاف حسین حالی (1837ء – 1914ء) اردو ادب کے مایہ ناز شاعر، نقاد، سوانح نگار اور مصلح تھے۔ وہ سرسید احمد خان کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے۔ حالی نے اردو شاعری کو روایتی گل و بلبل کے افسانوں سے نکال کر مقصدیت اور حقیقت نگاری کی طرف موڑا۔ ان کی مشہور تصانیف میں “مسدسِ حالی”، “مقدمہ شعر و شاعری” اور “حیاتِ جاوید” شامل ہیں۔ حالی کی حمدیہ شاعری میں عجز و انکسار اور اللہ کی عظمت کا اعتراف بڑے دلنشین انداز میں ملتا ہے۔
2۔ اشعار کی تشریح
شعر نمبر 1
> قبضہ ہو دلوں پر کیا اور اس سے سوا تیرا
> ایک بندہ نافرماں ہے حمد سرا تیرا
>
* مفہوم: اللہ کی قدرت کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہوگا کہ ایک گنہگار بندہ بھی اس کی تعریف کر رہا ہے۔
* مشکل الفاظ کے معنی:
* قبضہ: اختیار، تسلط۔
* سوا: زیادہ، علاوہ۔
* نافرماں: حکم نہ ماننے والا، گنہگار۔
* حمد سرا: تعریف کرنے والا۔
* تشریح: حالی اللہ کی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اے باری تعالیٰ! تیری قدرت کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ وہ انسان جو تیری نافرمانی کرتا ہے اور تیرے احکامات کو پسِ پشت ڈال دیتا ہے، اس کا دل بھی تیری محبت سے خالی نہیں۔ وہ بھی تیری ہی حمد و ثنا کرتا ہے۔ یہ تیرے ہی اختیار کا کمال ہے کہ باغی بھی تیرا ہی نام لیتا ہے۔
* حوالہ کا شعر:
* وہ معتبر ہے جو تیری ثنا کرتا ہے
* گناہ گار ہے پھر بھی دعا کرتا ہے
شعر نمبر 2
> گو سب سے مقدم ہے حق تیرا ادا کرنا
> بندے سے مگر ہوگا حق کیسے ادا تیرا
>
* مفہوم: اللہ کا حق ادا کرنا سب سے ضروری کام ہے، لیکن انسان کی بساط ہی نہیں کہ وہ اللہ کا حق پوری طرح ادا کر سکے۔
* مشکل الفاظ کے معنی:
* گو: اگرچہ۔
* مقدم: سب سے پہلے، ضروری۔
* حق ادا کرنا: فرض پورا کرنا۔
* تشریح: شاعر کہتا ہے کہ بے شک انسان پر سب سے پہلا فرض یہ ہے کہ وہ اپنے خالق کا حق ادا کرے اور اس کی عبادت کرے۔ لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ اللہ کی نعمتیں اتنی بے شمار ہیں کہ ایک عاجز انسان اپنی پوری زندگی سجدے میں بھی گزار دے، تب بھی وہ اس کی ایک سانس کا حق بھی ادا نہیں کر سکتا۔
* حوالہ کا شعر:
* جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی
* حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
شعر نمبر 3
> محرم بھی ہے ایسا ہی جیسا کہ ہے نامحرم
> کچھ کہہ نہ سکا جس پر یاں بھید کھلا تیرا
>
* مفہوم: اللہ کی ذات کو پہچاننے والا اور نہ پہچاننے والا دونوں برابر ہیں، کیونکہ جو جان لیتا ہے وہ بیان کرنے سے قاصر ہو جاتا ہے۔
* مشکل الفاظ کے معنی:
* محرم: واقف، جاننے والا۔
* نامحرم: ناواقف، انجان۔
* بھید: راز۔
* تشریح: یہ شعر معرفت الٰہی کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے۔ حالی کہتے ہیں کہ جو لوگ اللہ کی حقیقت سے ناواقف ہیں وہ تو خاموش ہیں ہی، لیکن جن پر اللہ کی ذات کے راز کھل جاتے ہیں، وہ اس کی عظمت کی ہیبت سے گنگ ہو جاتے ہیں۔ گویا جسے اللہ کی پہچان ہو گئی، وہ بھی کچھ کہنے کے قابل نہیں رہتا، اس لیے واقف اور ناواقف دونوں برابر نظر آتے ہیں۔
* حوالہ کا شعر:
* حواسِ باختہ بیٹھا ہے ہر اک محرمِ راز
* تیری بساط پہ پھیلا ہوا ہے کتنا شور
شعر نمبر 4
> جچتا نہیں نظروں میں یاں خلعتِ سلطانی
> کملی میں مگن اپنی رہتا ہے گدا تیرا
>
* مفہوم: اللہ کا سچا عاشق دنیاوی جاہ و جلال کی پرواہ نہیں کرتا، وہ اپنی درویشی میں خوش رہتا ہے۔
* مشکل الفاظ کے معنی:
* جچتا: پسند آنا۔
* خلعتِ سلطانی: شاہی لباس۔
* کملی: چھوٹی چادر، سادہ لباس۔
* گدا: فقیر، منگتا۔
* تشریح: جس انسان کے دل میں اللہ کی محبت سما جائے، اس کی نظر میں بادشاہوں کے قیمتی لباس اور جاہ و حشم کی کوئی وقعت نہیں رہتی۔ اللہ کا فقیر اپنی سادہ چادر اور فقیری میں اتنا مطمئن ہوتا ہے کہ اسے دنیا کی کسی بڑی سے بڑی سلطنت کی خواہش نہیں رہتی۔
* حوالہ کا شعر:
* فقیرانہ آئے صدا کر چلے
* میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے
شعر نمبر 5
> تو ہی نظر آتا ہے ہر شے پہ محیط ان کو
> جو رنج و مصیبت میں کرتے ہیں گلہ تیرا
>
* مفہوم: مصیبت کے وقت شکایت کرنے والے بھی لاشعوری طور پر یہ مانتے ہیں کہ ہر چیز پر اللہ ہی کا غلبہ ہے۔
* مشکل الفاظ کے معنی:
* محیط: چھایا ہوا، گھیرنے والا۔
* رنج: دکھ۔
* گلہ: شکوہ۔
* تشریح: عام طور پر لوگ دکھ اور تکلیف میں اللہ سے شکوہ کرتے ہیں۔ حالی کہتے ہیں کہ یہ شکوہ بھی اللہ کی موجودگی کی دلیل ہے۔ انسان شکایت بھی اسی سے کرتا ہے جسے وہ سب سے طاقتور اور ہر چیز پر قادر سمجھتا ہے۔ گویا گلہ کرنے والا بھی درحقیقت اللہ کے “محیط” ہونے کا اعتراف کر رہا ہوتا ہے۔
* حوالہ کا شعر:
* میری جھولی میں کچھ نہیں لیکن
* تیری رحمت کی حد نہیں کوئی
شعر نمبر 6
> آفاق میں پھیلے گی کب تک نہ مہک تیری
> گھر گھر لیے پھرتی ہے پیغام صبا تیرا
>
* مفہوم: اللہ کی توحید اور اس کی عظمت کا چرچا پوری دنیا میں ہو کر رہے گا۔
* مشکل الفاظ کے معنی:
* آفاق: دنیا، افق کی جمع۔
* صبا: صبح کی ٹھنڈی ہوا، نسیم۔
* تشریح: اللہ کی وحدانیت کی خوشبو پوری دنیا میں پھیلنا برحق ہے۔ جس طرح صبح کی ہوا ہر گھر تک پہنچتی ہے، اسی طرح کائنات کی ہر نشانی اللہ کا پیغام لے کر ہر انسان کے دروازے پر دستک دے رہی ہے۔ حق کا پیغام کبھی دب نہیں سکتا۔
* حوالہ کا شعر:
* ہر سو جلوہ گر ہے وہی ذاتِ کبریا
* گلشن ہو یا صحرا، ہر جا ہے وہ خدا
شعر نمبر 7 (مقطع)
> ہر بول تیرا دل سے ٹکرا کے گزرتا ہے
> کچھ رنگ بیاں حالی ہے سب سے جدا تیرا
* مفہوم: حالی کی شاعری میں ایسی تاثیر ہے کہ وہ سننے والے کے دل پر اثر کرتی ہے۔
* مشکل الفاظ کے معنی:
* بول: بات، کلام۔
* رنگِ بیاں: بات کرنے کا انداز۔
* جدا: الگ۔
* تشریح: غزل کے آخری شعر میں حالی خود سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ اے حالی! تیرے کلام میں ایسی سادگی اور خلوص ہے کہ تیری ہر بات سیدھی دل میں اتر جاتی ہے۔ تیرا اندازِ بیان دیگر شعراء سے بالکل مختلف اور منفرد ہے، کیونکہ اس میں بناوٹ کی جگہ سچائی اور عشقِ الٰہی شامل ہے۔
:جامع تشریح و خلاصہ
مولانا الطاف حسین حالی کی یہ حمد اردو کی چند بہترین حمدوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس غزل کا بنیادی محور اللہ کی وحدانیت، عظمت اور انسانی عجز ہے۔
حالی نے اس میں بتایا ہے کہ اللہ کی قدرت کا عالم یہ ہے کہ نیک تو نیک، گنہگار بھی اس کی حمد کرتے ہیں۔ وہ اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ انسان چاہے کتنی ہی عبادت کر لے، وہ اللہ کے احسانات کا بدلہ نہیں دے سکتا۔ غزل میں معرفت کا یہ پہلو بھی اجاگر کیا گیا ہے کہ اللہ کی ذات کو پوری طرح سمجھنا انسانی عقل سے بالاتر ہے؛ جو اسے جتنا زیادہ جانتا ہے، وہ اتنا ہی زیادہ خاموش ہو جاتا ہے۔ آخر میں وہ صوفیانہ رنگ اختیار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ کا سچا بندہ دنیاوی لالچ سے بے نیاز ہوتا ہے اور کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ کی موجودگی کی گواہی دیتا ہے۔ حالی کی سادگی اور اثر آفرینی نے اس حمد کو لافانی بنا دیا ہے۔