کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں، کب ہات میں تیرا ہات نہیں
عزیز طلبا طالبات، یہ خوبصورت اور انقلابی غزل اردو کے مایہ ناز شاعر فیض احمد فیض کی تخلیق ہے۔ ذیل میں اس کا تفصیلی جائزہ پیش کیا جا رہا ہے:
1۔ شاعر کا مختصر تعارف:
فیض احمد فیض (1911ء–1984ء) بیسویں صدی کے مقبول ترین ترقی پسند شاعر، صحافی اور دانشور تھے۔ ان کی شاعری میں کلاسیکی حسن اور انقلابی فکر کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ انہوں نے عشق اور سیاست کو ایک ہی لڑی میں پرو دیا۔ فیض کو ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں بین الاقوامی “لینن امن ایوارڈ” سے بھی نوازا گیا۔ ان کے مجموعہ ہائے کلام میں ‘نقشِ فریادی’، ‘دستِ صبا’ اور ‘زنداں نامہ’ خاصے مشہور ہیں۔
2۔ اشعار کی تشریح:
شعر نمبر 1:
کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں، کب ہات میں تیرا ہات نہیں
صد شکر کہ اپنی راتوں میں اب ہجر کی کوئی رات نہیں
مختصر مفہوم:
شاعر کہتا ہے کہ محبوب کا تصور اس کے ساتھ اس قدر گہرا ہے کہ اسے اب جدائی کا احساس ہی نہیں ہوتا۔
مشکل الفاظ کے معنی:
- صد شکر: سو بار شکر، بہت زیادہ شکر۔
- ہجر: جدائی، فراق۔
تشریح:
فیض اس شعر میں تخیل کی طاقت کا ذکر کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اے میرے محبوب! میری سوچ اور میری یادوں میں تو ہر پل میرے ساتھ موجود ہے۔ تیرا خیال مجھے یہ احساس دلاتا ہے جیسے میرا ہاتھ تیرے ہاتھ میں ہو۔ جب انسان کسی کے عشق میں فنا ہو جاتا ہے، تو ظاہری دوری کوئی معنی نہیں رکھتی۔ شاعر نے ہجر کی راتوں کو وصل کی راتوں میں بدل دیا ہے کیونکہ اس کا دل ہر وقت محبوب کی یاد سے روشن ہے۔
حوالہ کا شعر:
تم میرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
(مومن خان مومن)
شعر نمبر 2:
مشکل ہیں اگر حالات وہاں دل بیچ آئیں جاں دے آئیں
دل والو کوچۂ جاناں میں کیا ایسے بھی حالات نہیں
مختصر مفہوم:
اگر محبوب کی گلی میں حالات کٹھن ہیں، تو سچے عاشقوں کو وہاں اپنی جان اور دل قربان کرنے سے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔
مشکل الفاظ کے معنی:
- کوچۂ جاناں: محبوب کی گلی۔
- دل بیچ آنا: دل قربان کر دینا۔
تشریح:
یہ شعر فیض کے مخصوص سیاسی اور عشقیہ لب و لہجے کا عکاس ہے۔ یہاں “کوچۂ جاناں” سے مراد وطن کی محبت بھی ہو سکتی ہے اور محبوب کی گلی بھی۔ شاعر اہل دل کو پکار کر کہتا ہے کہ اگر وہاں حالات خراب ہیں اور وفا کی قیمت مانگی جا رہی ہے، تو ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ ہمیں اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دینا چاہیے کیونکہ محبت نام ہی قربانی کا ہے۔
حوالہ کا شعر:
جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے اس جاں کی تو کوئی بات نہیں
شعر نمبر 3:
جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے اس جاں کی تو کوئی بات نہیں
مختصر مفہوم:
حق کی راہ میں قربان ہونے والے کی عزت ہمیشہ قائم رہتی ہے، کیونکہ زندگی تو ایک نہ ایک دن ختم ہونی ہی ہے۔
مشکل الفاظ کے معنی:
- دھج: ٹوہر، انداز، وقار۔
- مقتل: قتل ہونے کی جگہ، میدانِ شہادت۔
تشریح:
یہ اس غزل کا سب سے مشہور اور طاقتور شعر ہے۔ فیض کہتے ہیں کہ موت تو برحق ہے، لیکن اہم یہ ہے کہ انسان کس مقصد کے لیے اور کس انداز میں مرتا ہے۔ جو لوگ اپنے نظریات اور حق کے لیے مقتل (پھانسی گھاٹ یا میدانِ جنگ) کا رخ وقار کے ساتھ کرتے ہیں، تاریخ انہیں ہمیشہ زندہ رکھتی ہے۔ زندگی کی حقیقت تو عارضی ہے، مگر جرات اور بہادری کا نشان لازوال ہے۔
حوالہ کا شعر:
آبرو کیا ہے تیرے کوچے کی
جو یہاں آئے وہ شہید نہ ہو
شعر نمبر 4:
میدانِ وفا دربار نہیں یاں نام و نسب کی پوچھ کر کہاں
عاشق تو کسی کا نام نہیں کچھ عشق کسی کی ذات نہیں
مختصر مفہوم:
عشق کی راہ میں خاندانی شرافت یا عہدہ نہیں دیکھا جاتا، یہاں صرف سچی تڑپ کی اہمیت ہے۔
مشکل الفاظ کے معنی:
- نام و نسب: خاندانی پہچان، حسب نسب۔
- میدانِ وفا: وفاداری کی جگہ، عشق کا راستہ۔
تشریح:
فیض یہاں طبقاتی تقسیم کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ عشق کسی خاص طبقے، ذات یا خاندان کی میراث نہیں ہے۔ شاہی درباروں میں تو عہدے اور نسب پوچھے جاتے ہیں، لیکن وفا کے میدان میں غریب اور امیر سب برابر ہیں۔ یہاں صرف وہ شخص معتبر ہے جس کے دل میں سچی تڑپ ہے۔ عشق ایک عالمگیر جذبہ ہے جو انسان کو اس کی ظاہری پہچان سے بلند کر دیتا ہے۔
حوالہ کا شعر:
عشق کی کوئی ذات نہیں ہوتی
عشق کا کوئی مذہب نہیں ہوتا
شعر نمبر 5:
گر بازی عشق کی بازی ہے جو چاہو لگا دو ڈر کیسا
گر جیت گئے تو کیا کہنا ہارے بھی تو بازی مات نہیں
مختصر مفہوم:
عشق کے راستے میں ہار جیت کا خوف نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ اس راستے میں ہارنا بھی ایک طرح کی جیت ہی ہے۔
مشکل الفاظ کے معنی:
- بازی: کھیل، شرط۔
- مات: شکست، ہار۔
تشریح:
شاعر حوصلہ دیتے ہوئے کہتا ہے کہ عشق ایک ایسا جوا ہے جس میں نقصان کا کوئی اندیشہ نہیں۔ اگر تم اپنی مراد پانے میں کامیاب ہو گئے تو یہ بہت بڑی خوش قسمتی ہے، لیکن اگر تم اس راہ میں اپنی جان یا سب کچھ ہار بھی گئے، تو اسے شکست تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ حق اور محبت کی راہ میں دی جانے والی ہر قربانی انسان کو امر کر دیتی ہے۔
حوالہ کا شعر:
کھیل ایسا ہے کہ جس میں جیتنا ممکن نہیں
اور ہار ایسی ہے جس کا تذکرہ رہ جائے گا
غزل کا مختصر و جامع خلاصہ:
یہ غزل امید، ہمت اور لازوال محبت کا پیغام ہے۔ فیض احمد فیض نے اس میں واضح کیا ہے کہ سچا عاشق یا نظریاتی انسان کبھی تنہا نہیں ہوتا۔ وہ موت سے نہیں ڈرتا بلکہ اسے ایک پروقار انجام سمجھتا ہے۔ غزل کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ حق اور وفا کی راہ میں دی جانے والی قربانی کبھی رائیگاں نہیں جاتی اور اس راستے میں کوئی مادی نقصان دراصل شکست نہیں بلکہ ایک ابدی کامیابی ہے۔