اُسی نے ایک حرفِ کُن سے پیدا کردیاعالم

یہ خوبصورت اشعار حفیظ جالندھری کی لکھی ہوئی “حمد” سے ماخوذ ہیں۔ ذیل میں آپ کی فرمائش کے مطابق اس حمد کی مکمل تشریح اور تفصیلات درج ہیں۔
1۔ شاعر کا مختصر تعارف
شاعر کا نام: ابوالاثر حفیظ جالندھری (1900ء – 1982ء)
حفیظ جالندھری اردو ادب کے ایک مایہ ناز شاعر اور نغمہ نگار ہیں۔ انہیں “شاعرِ اسلام” بھی کہا جاتا ہے۔ ان کی شاعری کی سب سے بڑی پہچان پاکستان کا قومی ترانہ اور ان کی شاہکار منظوم تاریخِ اسلام “شاہنامہ اسلام” ہے۔ ان کا کلام سادگی، روانی اور غنائیت کا بہترین مجموعہ ہے، جس میں حبِ وطنی اور عشقِ رسول ﷺ نمایاں نظر آتے ہیں۔

 اشعار کی تشریح

شعر نمبر 1
> اُسی نے ایک حرفِ کُن سے پیدا کردیا عالَم
> کشاکش کی صدائے ہاؤہو سے بھر دیا عالَم
>
* مختصر مفہوم: اللہ تعالیٰ نے صرف ایک لفظ “ہو جا” کہہ کر اس کائنات کو وجود بخشا اور اسے زندگی کی چہل پہل سے بھر دیا۔
* مشکل الفاظ کے معنی:
| لفظ | معنی |
| :— | :— |
| حرفِ کُن | اللہ کا حکم (ہو جا) |
| کشاکش | کھینچا تانی، جدوجہد، چہل پہل |
| صدائے ہاؤہو | زندگی کا شور و غل، ہنگامہ |
* تشریح:
شاعر اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کائنات کی تخلیق کے لیے اللہ کو کسی سامان یا مددگار کی ضرورت نہ تھی۔ اس نے صرف ارادہ کیا اور “کُن” (ہو جا) فرمایا، تو یہ عظیم الشان کائنات فوراً وجود میں آگئی۔ تخلیق کے بعد اس نے اس دنیا کو ویران نہیں رہنے دیا بلکہ اس میں زندگی کی رونقیں، انسانوں کی تگ و دو اور جانداروں کی آوازیں بھر دیں، جس سے یہ کائنات ایک متحرک جگہ بن گئی۔
* حوالہ کا شعر:
> وہ ایک لفظِ ’کُن‘ کا کرشمہ ہے کائنات
> ورنہ یہ بزمِ ہست تھی خوابِ عدم ابھی
>
شعر نمبر 2
> نظامِ آسمانی ہے اسی کی حکمرانی سے
> بہارِ جاودانی ہے اسی کی باغبانی سے
>
* مختصر مفہوم: آسمانوں کا یہ سارا مربوط نظام اللہ کے حکم سے چل رہا ہے اور کائنات کی رونق اسی کی بدولت قائم ہے۔
* مشکل الفاظ کے معنی:
| لفظ | معنی |
| :— | :— |
| نظامِ آسمانی | آسمان کا نظام (ستارے، سیارے) |
| بہارِ جاودانی | ہمیشہ رہنے والی بہار |
| باغبانی | دیکھ بھال، نگرانی |
* تشریح:
اس شعر میں شاعر کائنات کے نظم و ضبط کی بات کرتے ہیں۔ آسمان پر سورج، چاند اور ستاروں کا اپنے مقررہ راستوں پر چلنا اس بات کی دلیل ہے کہ کوئی اعلیٰ ہستی (اللہ) اس نظام کو چلا رہی ہے۔ کائنات میں جو خوبصورتی اور تازگی ہمیں نظر آتی ہے، وہ اللہ کی “باغبانی” کا نتیجہ ہے، یعنی وہی اس کائنات کا حقیقی نگران ہے جس کی وجہ سے یہاں کا توازن بگڑنے نہیں پاتا۔
* حوالہ کا شعر:
> ہے جاری وساری نظامِ دو عالم
> اسی کی ہے قدرت، اسی کا ہے حکم
>
شعر نمبر 3
> اُسی کے نور سے پُرنور ہیں شمس و قمر‘ تارے
> وہی ثابت ہے جس کے گرد پھرتے ہیں یہ سیارے
>
* مختصر مفہوم: سورج، چاند اور ستاروں کی روشنی اللہ ہی کے نور کا پرتو ہے، اور وہ اکیلا اپنی جگہ قائم ہے جبکہ ساری کائنات اس کے گرد طواف کر رہی ہے۔
* مشکل الفاظ کے معنی:
| لفظ | معنی |
| :— | :— |
| پُرنور | روشنی سے بھرا ہوا |
| شمس و قمر | سورج اور چاند |
| ثابت | اپنی جگہ پر قائم، غیر متغیر |
* تشریح:
کائنات کی تمام روشنیاں مستعار ہیں۔ سورج کی تپش ہو یا چاند کی چاندنی، یہ سب اللہ کے نور کا عکس ہیں۔ سائنسی طور پر بھی دیکھا جائے تو سیارے اپنے مرکز کے گرد گھومتے ہیں، لیکن روحانی طور پر شاعر کہنا چاہتے ہیں کہ اللہ کی ذات وہ واحد حقیقت ہے جو “ثابت” اور مستقل ہے، جبکہ باقی پوری کائنات اس کے حکم کے تابع حرکت میں ہے۔
* حوالہ کا شعر:
> ہر طرف تیری ہی جلوہ گری ہے مولیٰ
> ذرے ذرے میں چمک تیری نظر آتی ہے
>
شعر نمبر 4
> زمیں پر جلوہ آراء ہیں مظاہر اُس کی قدرت کے
> بچھائے ہیں اسی دانا نے دستر خوان نعمت کے
>
* مختصر مفہوم: زمین پر موجود ہر چیز اللہ کی قدرت کی نشانی ہے اور اس نے اپنی مخلوق کے لیے رزق کے بے شمار وسائل پیدا کیے ہیں۔
* مشکل الفاظ کے معنی:
| لفظ | معنی |
| :— | :— |
| جلوہ آراء | ظاہر ہونا، نمائش کرنا |
| مظاہر | نشانیاں (جمع مظہر) |
| دستر خوانِ نعمت | اللہ کی دی ہوئی روزی و برکت |
* تشریح:
شاعر کہتے ہیں کہ اگر ہم زمین پر نظر دوڑائیں تو پہاڑ، دریا، درخت اور پھول اللہ کی کاریگری کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ اللہ تعالیٰ نہ صرف پیدا کرنے والا ہے بلکہ “دانا” (عقل والا) بھی ہے، جس نے ہر جاندار کی ضرورت کے مطابق رزق کا انتظام کر رکھا ہے۔ یہ رنگ برنگے پھل اور غلے اللہ کے بچھائے ہوئے وہ دسترخوان ہیں جن سے ہر ذی روح فیض یاب ہو رہی ہے۔
* حوالہ کا شعر:
> تیرا رزق سب کو پہنچتا ہے مولیٰ
> کوئی بھی تیرے در سے خالی نہیں جاتا
>
شعر نمبر 5
> یہ سرد و گرم، خشک و تر، اُجالا اور تاریکی
> نظر آتی ہے سب میں شاں اُسی کی ذاتِ باری کی
>
* مختصر مفہوم: دنیا میں موجود تمام متضاد چیزیں (جیسے دن رات، گرمی سردی) اللہ ہی کی عظمت کو ظاہر کرتی ہیں۔
* مشکل الفاظ کے معنی:
| لفظ | معنی |
| :— | :— |
| خشک و تر | زمین اور سمندر (یا نمی) |
| ذاتِ باری | پیدا کرنے والی ذات (اللہ) |
| شاں (شان) | عظمت، رعب |
* تشریح:
کائنات تضادات کا مجموعہ ہے۔ دن کے بعد رات کا آنا، موسموں کا بدلنا، خشکی اور پانی کا وجود—یہ سب اتفاقیہ نہیں ہیں۔ ان مخالف چیزوں کا ایک ساتھ مل کر نظام کو چلانا اس بات کا ثبوت ہے کہ ان سب کا خالق ایک ہی ہے، جو کمال حکمت کے ساتھ ان متضاد قوتوں کو کنٹرول کر رہا ہے۔
* حوالہ کا شعر:
> کثرت میں تو ہی جلوہ گر اے واحد و یکتا
> ہر شے سے تری شانِ الٰہی ہے ہویدا
>
شعر نمبر 6
> وہی ہے کائنات اور اُس کی مخلوقات کا خالق
> نباتات و جمادات اور حیوانات کا خالق
>
* مختصر مفہوم: اللہ ہی پوری کائنات، پودوں، پتھروں اور جانداروں کا اکیلا پیدا کرنے والا ہے۔
* مشکل الفاظ کے معنی:
| لفظ | معنی |
| :— | :— |
| نباتات | پیڑ پودے |
| جمادات | بے جان چیزیں (پتھر، مٹی وغیرہ) |
| حیوانات | جانور اور تمام جاندار |
* تشریح:
اس شعر میں شاعر نے کائنات کی مختلف اقسام کا ذکر کیا ہے۔ اللہ صرف انسانوں کا خدا نہیں، بلکہ وہ ان پودوں کا بھی خالق ہے جو زمین سے اگتے ہیں، ان بے جان پہاڑوں اور معدنیات کا بھی موجد ہے جو زمین کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں، اور ان حیوانات کا بھی پیدا کرنے والا ہے جو زمین پر رینگتے یا چلتے ہیں۔ کائنات کی ہر صنف اس کی تخلیق ہے۔
* حوالہ کا شعر:
> تیری قدرت کے ہیں یہ سب کرشمے
> شجر ہوں یا حجر، سب تیرے ہی بندے
>
شعر نمبر 7
> وہی خالق ہے دل کا اور دل کے نیک ارادوں کا
> وہی مالک ہمارا اور ہمارے باپ دادوں کا
>
* مختصر مفہوم: اللہ ہمارے دلوں کا حال جانتا ہے، وہی ہمیں نیک خیالات دیتا ہے اور وہی ہماری تمام نسلوں کا حقیقی مالک ہے۔
* مشکل الفاظ کے معنی:
| لفظ | معنی |
| :— | :— |
| ارادوں | نیتیں، سوچ |
| باپ دادوں | آباؤ اجداد، پچھلی نسلیں |
* تشریح:
اللہ کی حاکمیت صرف ظاہری دنیا تک محدود نہیں بلکہ وہ ہمارے باطن (دل) پر بھی حکمران ہے۔ ہمارے دل میں اٹھنے والی ہر نیک خواہش اللہ کی طرف سے ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ اللہ کی ملکیت زمان و مکان سے بالاتر ہے؛ وہ نہ صرف ہمارا رب ہے بلکہ ہم سے پہلے گزر جانے والے ہمارے آباؤ اجداد کا بھی وہی مالک و خالق تھا۔
* حوالہ کا شعر:
> دلوں کے بھید وہ خوب جانتا ہے
> وہ سب کا ہے، سب اسے مانتے ہیں
>
شعر نمبر 8
> بِشر کو فطرتِ اسلام پر پیدا کیا جس نے
> محمد مصطفیٰ کے نام پر شیدا کیا جس نے
>
* مختصر مفہوم: اللہ نے انسان کو دینِ فطرت (اسلام) پر پیدا کیا اور اس کے دل میں حضرت محمد ﷺ کی سچی محبت پیدا کر دی۔
* مشکل الفاظ کے معنی:
| لفظ | معنی |
| :— | :— |
| بِشر | انسان |
| فطرتِ اسلام | سچائی اور نیکی کا راستہ |
| شیدا | عاشق، فریفتہ، فدا ہونے والا |
* تشریح:
یہ حمد کا مقطع نما آخری شعر ہے جس میں شاعر اللہ کے ایک بڑے احسان کا ذکر کرتے ہیں۔ اللہ نے انسان کو پاکیزہ فطرت پر پیدا کیا اور اسے صحیح راستے کی پہچان عطا کی۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ہمیں اپنے محبوب نبی حضرت محمد ﷺ کا امتی بنایا اور ہمارے دلوں کو آپ ﷺ کی محبت سے منور کر دیا، جو کہ ایمان کی بنیاد ہے۔
* حوالہ کا شعر:
> کی محمدؐ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
> یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
>
حمد کا خلاصہ (امتحانی نقطہ نظر سے)
مرکزی خیال و خلاصہ:
اس حمد میں حفیظ جالندھری اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، قدرت اور ربوبیت کا اعتراف بڑے دلنشین انداز میں کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ اللہ نے اس کائنات کو محض ایک حکم “کُن” سے عدم سے وجود میں لایا اور اسے زندگی کی چہل پہل بخشی۔ کائنات کا ذرہ ذرہ، چاہے وہ آسمانی نظام ہو یا زمین کے رنگ و بو، سب اللہ کے تابع ہیں۔ سورج اور چاند کی روشنی اسی کے نور کا فیض ہے۔ اللہ ہی وہ عظیم ہستی ہے جس نے زمین پر نعمتوں کے دسترخوان بچھائے اور کائنات کی تمام مخلوقات (نباتات، جمادات، حیوانات) کو تخلیق کیا۔ وہ نہ صرف ہمارے جسموں بلکہ ہمارے دلوں اور ارادوں کا بھی مالک ہے۔ آخر میں شاعر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے انسان کو اسلام جیسی سچی فطرت عطا کی اور ہمیں اپنے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی محبت اور غلامی کا شرف بخشا۔
کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اس حمد کے کسی خاص شعر کی مزید گہرائی میں جا کر تشریح کروں یا اس کے مشقی سوالات حل کرنے میں آپ کی مدد کروں؟