سر میں سودا بھی نہیں دل میں تمنا بھی نہیں

سر میں سودا بھی نہیں دل میں تمنا بھی نہیں

عزیز طلبہ! آج ہم اردو ادب کے ایک انتہائی اہم اور جدید لہجے کے شاعر کی غزل کا مطالعہ کریں گے۔ یہ غزل اپنے موضوعات، نفسیاتی گہرائی اور منفرد اندازِ بیان کی وجہ سے نصاب میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔

:شاعر کا مختصر تعارف

:فراق گورکھپوری (رگھوپتی سہائے)

فراق گورکھپوری اردو غزل کے وہ عظیم شاعر ہیں جنہوں نے اردو شاعری میں ہندوستانی تہذیب اور جدید انسانی نفسیات کا خوبصورت امتزاج پیش کیا۔ وہ حسن و عشق کی کیفیات کو ایک فلسفیانہ اور دھیمے لہجے میں بیان کرنے کے امام مانے جاتے ہیں۔

غزل کی تشریح

شعر نمبر 1

سر میں سودا بھی نہیں دل میں تمنا بھی نہیں
لیکن اس ترکِ محبت کا بھروسا بھی نہیں

:مفہوم

میرے سر میں اب عشق کا جنون اور دل میں خواہش باقی نہیں رہی، مگر اس کے باوجود محبت چھوڑنے کے اس فیصلے پر مجھے خود بھی اعتبار نہیں ہے۔

:مشکل الفاظ کے معنی

* سودا : جنون، دیوانگی، عشق کا خمار
* تمنا : خواہش، آرزو
* ترکِ محبت : محبت چھوڑ دینا، تعلق ختم کر لینا

:تشریح

فراق گورکھپوری اس شعر میں انسانی نفسیات کی ایک عجیب کیفیت کو بیان کرتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ ظاہری طور پر میں عشق کی دیوانگی اور دل کی تڑپ سے آزاد ہو چکا ہوں۔ اب نہ تو وہ پہلے جیسی بے چینی ہے اور نہ ہی محبوب کو پانے کی شدید آرزو دل میں مچل رہی ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ محبت کا باب بند ہو چکا ہے۔
لیکن دوسرے مصرعے میں شاعر اپنی ہی کیفیت کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو انسان کے اختیار میں نہیں ہوتا۔ اگرچہ میں نے محبت ترک کرنے کا ارادہ کر لیا ہے، مگر مجھے اپنے دل پر بھروسا نہیں ہے۔ یہ خاموشی کسی بھی وقت ٹوٹ سکتی ہے اور عشق کا جذبہ دوبارہ پوری قوت سے ابھر سکتا ہے۔ یہ شعر انسانی ارادے کی کمزوری اور جذبات کی غیر یقینی صورتحال کی بہترین عکاسی ہے۔

:حوالہ کا شعر

محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے

شعر نمبر 2

دل کی گنتی نہ یگانوں میں نہ بیگانوں میں
لیکن اس جلوہ گہہِ ناز سے اٹھتا بھی نہیں

:مفہوم

میرے دل کا شمار محبوب کے اپنوں میں ہوتا ہے نہ غیروں میں، مگر اس کے باوجود یہ محبوب کے در سے اٹھنے کو تیار نہیں۔

:مشکل الفاظ کے معنی

* یگانوں : اپنے، رشتے دار، قریبی لوگ
* بیگانوں : غیر، اجنبی
* جلوہ گہہِ ناز : محبوب کا مقام، جہاں محبوب کا دیدار ہو (مراد محبوب کا گھر یا محفل)

:تشریح

اس شعر میں شاعر نے عشق کی اس اذیت ناک کیفیت کا ذکر کیا ہے جہاں عاشق کی کوئی واضح حیثیت نہیں ہوتی۔ فراق کہتے ہیں کہ محبوب کی محفل میں میری کوئی پہچان نہیں۔ نہ تو وہ مجھے اپنے قریبی دوستوں میں شمار کرتا ہے اور نہ ہی مجھے مکمل طور پر اجنبی سمجھ کر دھتکارتا ہے۔ میں ایک ایسی درمیانی کیفیت میں لٹکا ہوا ہوں۔
اس بے وقعتی اور غیر یقینی صورتحال کے باوجود، میرے دل کی حالت یہ ہے کہ یہ محبوب کے در یعنی “جلوہ گہہِ ناز” کو چھوڑنے پر تیار نہیں۔ دل کو بار بار کی توہین اور بے اعتنائی بھی محبوب کی گلی سے دور نہیں کر پا رہی۔ یہ وفاداری اور بے بسی کی ایک اعلیٰ مثال ہے کہ عاشق ہر طرح کی ذلت سہہ کر بھی کوچہء یار سے وابستہ رہنا

چاہتا ہے۔

:حوالہ کا شعر

تیرے کوچے میں اس بہانے سے
ہم گئے تھے کہ لوٹ آئیں گے

شعر نمبر 3

مہربانی کو محبت نہیں کہتے اے دوست
آہ اب مجھ سے تری رنجشِ بے جا بھی نہیں

:مفہوم

اے دوست! محض رسمی مہربانی محبت نہیں ہوتی، مجھے دکھ ہے کہ اب تو مجھ سے ناراض بھی نہیں ہوتا کیونکہ ناراضی بھی تعلق کی دلیل ہوتی ہے۔

:مشکل الفاظ کے معنی

* رنجشِ بے جا : بلاوجہ کی ناراضی، خفگی
* آہ : افسوس کا کلمہ

:تشریح

فراق گورکھپوری نفسیاتی بصیرت کے شاعر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اے محبوب! تم میرے ساتھ جو رسمی اخلاق اور رکھ رکھاؤ سے پیش آتے ہو، یہ محبت نہیں۔ محبت میں تو بے تکلفی اور مان ہوتا ہے۔ جب محبت ہوتی ہے تو انسان محبوب کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر خفا ہوتا ہے، شکوے شکایتیں کرتا ہے۔
شاعر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اب تو نوبت یہاں تک آ گئی ہے کہ تم نے مجھ سے ناراض ہونا بھی چھوڑ دیا ہے۔ “رنجشِ بے جا” ختم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اب تمہارے دل میں میرے لیے کوئی جذبہ (چاہے وہ غصے کا ہی کیوں نہ ہو) باقی نہیں رہا۔ یہ سرد مہری اور لاتعلقی عاشق کے لیے نفرت سے زیادہ تکلیف دہ ہے کیونکہ لڑائی جھگڑا اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ تعلق زندہ ہے، مگر مکمل خاموشی تعلق کی موت ہے۔

:حوالہ کا شعر

شوق سے کیجیے جفا لیکن
پر خلوصِ وفا تو ہو جائے

شعر نمبر 4

ایک مدت سے تری یاد بھی آئی نہ ہمیں
اور ہم بھول گئے ہوں تجھے ایسا بھی نہیں

:مفہوم

ایک طویل عرصے سے مجھے تمہاری یاد نہیں آئی، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ میں تمہیں بھول گیا ہوں (بلکہ تم میری ذات کا حصہ بن چکے ہو)۔
مشکل الفاظ کے معنی:
* مدت : طویل عرصہ، زمانہ

:تشریح

یہ فراق گورکھپوری کا شاہکار شعر ہے اور اردو غزل کے بہترین اشعار میں شمار ہوتا ہے۔ اس میں ایک بہت لطیف نفسیاتی نقطہ بیان کیا گیا ہے۔ عام طور پر “یاد آنا” اس چیز کا ہوتا ہے جو بھول چکی ہو۔ شاعر کہتے ہیں کہ “یاد آنے” کا عمل وہاں ہوتا ہے جہاں “فراموشی” کا عمل دخل ہو۔
میرا تیری یاد سے غافل ہونا دراصل تجھے بھولنا نہیں ہے، بلکہ اب تم میرے شعور سے اتر کر میرے لاشعور کا حصہ بن گئے ہو۔ تم میری سانسوں میں اور میرے وجود میں اس طرح رچ بس گئے ہو کہ مجھے تمہیں الگ سے یاد کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی۔ جس طرح انسان کو سانس لینا یاد نہیں رکھنا پڑتا، اسی طرح تمہاری یاد بھی میری زندگی کا ایک فطری عمل بن چکی ہے۔ یہ محبت کا وہ مقام ہے جہاں دوئی ختم ہو جاتی ہے۔

:حوالہ کا شعر

بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں
الہیٰ ترکِ الفت پر وہ کیوں کر یاد آتے ہیں

شعر نمبر 5

آج غفلت بھی ان آنکھوں میں ہے پہلے سے سوا
آج ہی خاطرِ بیمار شکیبا بھی نہیں

:مفہوم

آج محبوب کی آنکھوں میں پہلے سے زیادہ لاپرواہی ہے اور دوسری طرف میرا بیمار دل بھی آج صبر کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔

:مشکل الفاظ کے معنی

* غفلت : لاپرواہی، بے نیازی
* سوا : زیادہ
* خاطرِ بیمار : دکھی دل، بیمار طبیعت
* شکیبا : صبر کرنے والا

:تشریح

اس شعر میں شاعر نے دو متضاد کیفیتوں کو ایک ہی وقت میں بیان کیا ہے جس نے صورتحال کو انتہائی نازک بنا دیا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ آج محبوب کا رویہ معمول سے زیادہ سرد اور غافل ہے۔ اس کی آنکھوں میں میرے لیے شناسائی کی بجائے اجنبیت اور بے نیازی بہت بڑھ گئی ہے۔
دوسری طرف بدقسمتی یہ ہے کہ آج میرے دل میں بھی برداشت اور صبر کا مادہ ختم ہو چکا ہے۔ عام دنوں میں اگر محبوب بے رخی برتتا تھا تو میں صبر کر لیتا تھا، مگر آج میرا دل بے چین اور بے قابو ہے۔ جب محبوب کی بے رخی اور عاشق کی بے صبری ایک ساتھ جمع ہو جائیں تو یہ تعلق کے ٹوٹنے یا کسی بڑے سانحے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہیں۔

:حوالہ کا شعر

صبر تھا ایک مونسِ ہجر
سو وہ مدت ہوئی کہ مر گیا

شعر نمبر 6

بات یہ ہے کہ سکونِ دلِ وحشی کا مقام
کنجِ زنداں بھی نہیں وسعتِ صحرا بھی نہیں

:مفہوم

حقیقت یہ ہے کہ میرے وحشی اور بے چین دل کو نہ تو قید خانے کے گوشے میں سکون ملتا ہے اور نہ ہی جنگل کی ویرانیوں میں۔

:مشکل الفاظ کے معنی

* دلِ وحشی : دیوانہ دل، پاگل پن
* کنجِ زنداں : قید خانے کا گوشہ
* وسعتِ صحرا : ریگستان کا پھیلاؤ، جنگل

:تشریح

یہاں شاعر نے اپنے دل کی اندرونی بے چینی اور اضطراب کو بیان کیا ہے۔ کلاسیکی شاعری میں روایت ہے کہ جب عاشق دیوانہ ہوتا ہے تو شہر چھوڑ کر صحرا (جنگل) کی طرف بھاگتا ہے یا اسے زنجیروں میں جکڑ کر زندان (قید خانے) میں ڈال دیا جاتا ہے۔
فراق کہتے ہیں کہ میرا جنون اتنا بڑھ چکا ہے کہ اب یہ روایتی ٹھکانے بھی میرے لیے بے معنی ہیں۔ قید خانے کی تنگی میرا دم گھٹتی ہے اور صحرا کی وسعت بھی میری وحشت کو سمونے کے لیے کم پڑ گئی ہے۔ دراصل سکون کا تعلق جگہ سے نہیں بلکہ دل کی کیفیت سے ہے۔ جب دل کے اندر شور برپا ہو تو باہر کی کوئی بھی جگہ سکون نہیں دے سکتی۔

:حوالہ کا شعر

وحشت ہے کہ اس کوچے میں لے آئی ہے ہم کو
صحرا کی طرف اب ہمیں جانے نہیں دیتی

شعر نمبر 7

ارے صیاد ہمیں گل ہیں ہمیں بلبل ہیں
تو نے کچھ آہ سنا بھی نہیں دیکھا بھی نہیں

:مفہوم

اے شکاری! ہم ہی پھول ہیں اور ہم ہی بلبل (یعنی عشق اور حسن دونوں ہم ہی ہیں)، تو نے ہماری حقیقت کو سمجھا ہی نہیں، یہ تیری کم ناہی ہے۔

:مشکل الفاظ کے معنی

* صیاد : شکاری
* گل : پھول (مراد محبوب)
* بلبل : عاشق

:تشریح

اس شعر میں شاعر نے “وحدت الوجود” کے فلسفے کا عکس دکھایا ہے یا پھر اپنی ذات کی جامعیت کا اظہار کیا ہے۔ شاعر شکاری (جو کہ زمانے کی گردش یا رقیب کا استعارہ بھی ہو سکتا ہے) سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ تو ہمیں صرف ایک مظلوم پرندہ سمجھ رہا ہے جسے تو نے قید کر لیا ہے۔
مگر تجھے خبر نہیں کہ ہم اپنی ذات میں ایک پوری کائنات ہیں۔ ہم ہی حسن (گل) ہیں اور ہم ہی عشق (بلبل) ہیں۔ ہم خود ہی تماشائی ہیں اور خود ہی تماشا۔ یہ شعر خود آگاہی کی انتہا ہے۔ شاعر شکاری کی جہالت پر افسوس کر رہا ہے کہ اس نے ظاہر کو دیکھا مگر باطن کی حقیقت کو نہ سن سکا اور نہ دیکھ سکا کہ اس نے کس عظیم ہستی کو پا بہ زنجیر کیا ہے۔

:حوالہ کا شعر

اپنے مرکز کی طرف مائلِ پرواز تھا

حسن بھولتا ہی نہیں عالم تیری انگڑائی کا

شعر نمبر 8

آہ یہ مجمعِ احباب یہ بزمِ خاموش
آج محفل میں فراقؔ سخن آرا بھی نہیں

:مفہوم

افسوس کہ دوستوں کا ہجوم تو موجود ہے مگر محفل خاموش ہے، شاید اس لئے کہ آج محفل کی جان، فراقؔ گفتگو نہیں کر رہا۔

:مشکل الفاظ کے معنی

* مجمعِ احباب : دوستوں کا ہجوم
* سخن آرا : خوبصورت باتیں کرنے والا، محفل سجانے والا

:تشریح

یہ غزل کا مقطع ہے جس میں شاعر نے “تعلی” (شاعرانہ خود ستائی) سے کام لیا ہے۔ فراق کہتے ہیں کہ دوستوں کی محفل سجی ہوئی ہے، لوگ موجود ہیں، مگر پھر بھی ایک عجیب سی اداسی اور خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ اس خاموشی کی وجہ یہ ہے کہ وہ شخص (فراق) جو اپنی باتوں سے محفل میں جان ڈال دیتا تھا، آج خاموش ہے۔
یہ شعر اس بات کا اظہار ہے کہ اصل رونق ہجوم سے نہیں بلکہ اہلِ ہنر اور صاحبِ ذوق لوگوں سے ہوتی ہے۔ فراق اپنی اہمیت جتا رہے ہیں کہ ان کے بغیر محفل کی رونق ماند پڑ جاتی ہے اور لفظ اپنے معنی کھو دیتے ہیں۔

:حوالہ کا شعر

ہر چند ہو مشاہدۂ حق کی گفتگو
بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر

شعر نمبر 9 (اضافی شعر)

یہ بھی سچ ہے کہ محبت پہ نہیں میں مجبور
یہ بھی سچ ہے کہ ترا حسن کچھ ایسا بھی نہیں

:مفہوم

یہ حقیقت ہے کہ میں محبت کرنے پر مجبور نہیں ہوں (یہ میرا اختیار ہے) اور یہ بھی سچ ہے کہ تمہارا حسن اتنا بھی لاجواب نہیں کہ انسان بے بس ہو جائے۔

:تشریح

یہ شعر فراق کے جدید اور حقیقت پسندانہ لہجے کا عکاس ہے۔ روایتی شاعری میں محبوب کا حسن مثالی اور ناقابلِ تسخیر ہوتا ہے۔ مگر فراق نے یہاں جرأت مندانہ انداز اختیار کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اگر تم سے محبت کرتا ہوں تو یہ میری اپنی مرضی اور انتخاب ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ میں تمہارے حسن کے ہاتھوں مجبور ہو کر رہ گیا ہوں۔
وہ محبوب کے حسن کے طلسم کو توڑتے ہوئے کہتے ہیں کہ تمہارا حسن ایسا بھی کرشماتی نہیں ہے جس کا مقابلہ نہ کیا جا سکے۔ یہ محبوب کے غرور پر ایک کاری ضرب ہے اور عاشق کی خود داری کا اعلان بھی۔

:حوالہ کا شعر

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا

شعر نمبر 10 (اضافی شعر)

یوں تو ہنگامے اٹھاتے نہیں دیوانۂ عشق
مگر اے دوست کچھ ایسوں کا ٹھکانا بھی نہیں

:مفہوم

عشق کرنے والے عام طور پر فساد یا شور نہیں مچاتے، لیکن اگر ان کے جذبات بھڑک اٹھیں تو پھر ان کا کوئی بھروسا نہیں ہوتا کہ وہ کیا کر گزریں۔

:تشریح

شاعر کہتے ہیں کہ سچے عاشق عام طور پر خاموش، صابر اور اپنی دنیا میں مگن رہتے ہیں۔ وہ دنیا کے لیے مسئلہ نہیں بنتے۔ لیکن شاعر محبوب یا معاشرے کو متنبہ بھی کر رہے ہیں کہ ان دیوانوں کو زیادہ نہیں ستانا چاہیے۔ کیونکہ یہ لوگ دنیاوی اصولوں اور پابندیوں سے آزاد ہوتے ہیں۔ “ٹھکانا نہیں” سے مراد یہ ہے کہ ان کے ردعمل کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ اگر یہ بپھر جائیں تو یہ ہر رسم و رواج کو توڑ سکتے ہیں اور ہنگامہ برپا کر سکتے ہیں، اس لیے ان کی خاموشی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔

:حوالہ کا شعر

ہم بھی منہ میں زبان رکھتے ہیں
کاش پوچھو کہ مدعا کیا ہے

شعر نمبر 11 (اضافی شعر)

فطرتِ حسن تو معلوم ہے تجھ کو ہمدم
چارہ ہی کیا ہے بجز صبر سو ہوتا بھی نہیں

:مفہوم

اے دوست! حسن کی فطرت (بے وفائی اور بے پرواہی) سے تو ہم سب واقف ہیں، اس کا علاج صرف صبر ہے اور بدقسمتی سے وہ بھی ہم سے نہیں ہوتا۔

:تشریح

شاعر اپنے ہمدم (دوست) سے مخاطب ہو کر حسن اور عشق کے ازلی تضاد کو بیان کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ بات طے ہے کہ حسین لوگ مغرور اور بے وفا ہوتے ہیں، یہ ان کی فطرت کا حصہ ہے۔ اس ظلم کا واحد علاج یہ ہے کہ عاشق صبر کرے اور خاموش رہے۔
لیکن المیہ یہ ہے کہ عاشق کا دل بے چین ہوتا ہے، اس کے اختیار میں “صبر” کرنا نہیں ہے۔ گویا عاشق دوہری اذیت میں ہے۔ ایک طرف محبوب کا رویہ تکلیف دہ ہے اور دوسری طرف اس تکلیف پر صبر کرنے کی طاقت بھی موجود نہیں۔ یہ انسانی بے بسی کی تصویر ہے۔

:حوالہ کا شعر

نازکی اس کے لب کی کیا کہیے
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے

شعر نمبر 12 (اضافی شعر)

منہ سے ہم اپنے برا تو نہیں کہتے کہ فراقؔ
ہے ترا دوست مگر آدمی اچھا بھی نہیں

:مفہوم

میں اپنی زبان سے برائی تو نہیں کرتا، لیکن سچ یہ ہے کہ فراقؔ اگرچہ تمہارا دوست ہے، مگر وہ انسان اچھا نہیں ہے۔

:تشریح

اس شعر میں فراق نے “طنز و مزاح” اور خود پر تنقید (Self-Deprecation) کا پہلو نکالا ہے۔ وہ اپنے آپ کو ایک تیسرے شخص کے طور پر دیکھتے ہیں۔ وہ محبوب یا کسی سامع سے کہتے ہیں کہ بھلے ہی فراق تمہارا دوست ہے اور میں دوستی کا لحاظ کرتے ہوئے زیادہ کچھ نہیں کہتا، مگر سچ یہی ہے کہ اخلاقی یا سماجی طور پر وہ کوئی “اچھا آدمی” نہیں ہے۔
یہ شاعرانہ انکساری بھی ہو سکتی ہے اور اپنی کوتاہیوں کا اعتراف بھی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ شاعر یہ کہہ رہا ہو کہ عشق میں مبتلا ہو کر انسان دنیا کی نظر میں “اچھا” نہیں رہتا کیونکہ وہ سماجی معیارات پر پورا نہیں اترتا۔

:حوالہ کا شعر

غالبؔ برا نہ مان جو واعظ برا کہے
ایسا بھی کوئی ہے کہ سب اچھا کہیں جسے

خلاصہ کلام (مکمل غزل کا جائزہ)

فراق گورکھپوری کی یہ غزل اردو شاعری میں کلاسیکی رچاؤ اور جدید نفسیاتی بصیرت کا بہترین نمونہ ہے۔ اس غزل کا مرکزی خیال “انسانی جذبات کا تضاد اور عشق کی پیچیدہ کیفیات” ہے۔ فراق محض سطحی جذبات کی بات نہیں کرتے بلکہ وہ عشق کے زیر و بم اور انسانی نفسیات کی تہوں کو کھولتے ہیں۔
اس غزل میں جہاں عاشق کی بے بسی اور محبوب کی بے رخی کا ذکر ہے، وہیں عاشق کی خود داری بھی نمایاں ہے، خاص طور پر جہاں وہ کہتے ہیں کہ “ترا حسن کچھ ایسا بھی نہیں”۔ اس کے علاوہ “ایک مدت سے تری یاد بھی آئی نہ ہمیں” والا شعر انسانی یادداشت اور لاشعور کے تعلق کو فلسفیانہ انداز میں بیان کرتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ غزل ہجر، صبر، نفسیاتی کشمکش اور شاعرانہ انفرادیت کا ایک حسین گلدستہ ہے۔


Discover more from The First Info

Subscribe to get the latest posts sent to your email.