اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا
یہ غزل معروف شاعر مومن خان مومن کی ہے۔ ذیل میں غزل کے تمام اشعار کی مکمل تشریح اور مشکل الفاظ کے معنی دیئے جا رہے ہیں۔
شاعر کا مختصر تعارف
مومن خان مومن (1800ء–1852ء) اردو کے نامور کلاسیکی شعرا میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کا تعلق دہلی سے تھا۔ مومن بنیادی طور پر ایک قادرالکلام غزل گو شاعر تھے۔ ان کی شاعری میں محبت، نزاکتِ خیال، لطافتِ بیان اور جذبات کی گہرائی نمایاں نظر آتی ہے۔
مومن کے اشعار میں سادگی کے ساتھ ساتھ معنی کی گہرائی پائی جاتی ہے۔ ان کا مشہور شعر:
“تم مرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا”
اردو ادب کے مقبول ترین اشعار میں شمار ہوتا ہے۔
ذیل میں مکمل غزل کے اشعار کی تشریح پیش کی جارہی ہے۔
شعر نمبر 1
اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا
رنج راحت فزا نہیں ہوتا
:مفہوم
محبوب کو میری محبت اور دکھ کا کوئی اثر نہیں ہوتا اور میری تکلیف بھی اس کے لیے باعثِ راحت نہیں بنتی۔
:مشکل الفاظ
اثر: اثر پڑنا
رنج: دکھ، غم
راحت فزا: خوشی یا سکون بڑھانے والا
:تشریح
شاعر اپنے محبوب کی بے حسی کا ذکر کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ میری محبت، میرا غم اور میری تکلیف محبوب کے دل پر کوئی اثر نہیں ڈالتے۔ اگرچہ عاشق کے لیے محبوب کی ایک نظر بھی راحت کا سبب ہوتی ہے مگر محبوب کے لیے عاشق کا دکھ کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اس شعر میں عاشق کی بے بسی اور محبوب کی بے نیازی کو نہایت سادہ مگر دلنشین انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
:حوالہ کا شعر
اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا
رنج راحت فزا نہیں ہوتا
شعر نمبر 2
بے وفا کہنے کی چہے
تو بھی وعدہ وفا نہیں ہوتا
:مفہوم
محبوب کو یہ شکایت ہے کہ میں اسے بے وفا کہتا ہوں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ وعدہ پورا بھی نہیں کرتا۔
:مشکل الفاظ
بے وفا: وعدہ پورا نہ کرنے والا
وعدہ وفا: وعدہ نبھانا
:تشریح
شاعر کہتا ہے کہ محبوب اس بات پر ناراض ہے کہ میں اسے بے وفا کہتا ہوں، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے وعدے پورے ہی نہیں کرتا۔ اگر وہ وعدہ وفا کرتا تو شاید مجھے اسے بے وفا کہنے کا موقع ہی نہ ملتا۔ اس شعر میں محبت کے رشتے میں شکایت اور دل آزاری کو خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔
:حوالہ کا شعر
بے وفا کہنے کی شکایت ہے
تو بھی وعدہ وفا نہیں ہوتا
شعر نمبر 3
ذکر اغیار سے ہوا معلوم
حرف ناصح برا نہیں ہوتا
:مفہوم
دوسروں کے ذکر سے معلوم ہوا کہ نصیحت کرنے والے کی بات بری نہیں ہوتی۔
:مشکل الفاظ
اغیار: غیر لوگ
ناصح: نصیحت کرنے والا
حرف: بات
:تشریح
شاعر کہتا ہے کہ جب محبوب نے دوسروں کا ذکر کیا تو مجھے احساس ہوا کہ جو نصیحت کرنے والے مجھے پہلے سمجھاتے تھے وہ غلط نہیں تھے۔ گویا محبت میں انسان اکثر نصیحتوں کو نظر انداز کرتا ہے لیکن تجربہ بعد میں سچائی کو ظاہر کر دیتا ہے۔
:حوالہ کا شعر
ذکر اغیار سے ہوا معلوم
حرف ناصح برا نہیں ہوتا
شعر نمبر 4
کس کو ہے ذوق تلخ کامی لیک
جنگ بن کچھ مزا نہیں ہوتا
:مفہوم
اگرچہ کسی کو ناکامی پسند نہیں ہوتی لیکن جدوجہد کے بغیر کامیابی میں مزہ بھی نہیں آتا۔
:مشکل الفاظ
ذوق: شوق
تلخ کامی: ناکامی، تلخی
لیک: لیکن
جنگ: جدوجہد
:تشریح
شاعر زندگی کے ایک اہم فلسفے کو بیان کرتا ہے کہ کوئی بھی انسان ناکامی پسند نہیں کرتا مگر جدوجہد اور مشکلات کے بغیر کامیابی کی خوشی بھی محسوس نہیں ہوتی۔ اسی طرح محبت میں بھی مشکلات اور آزمائشیں جذبات کو مزید گہرا کرتی ہیں۔
:حوالہ کا شعر
کس کو ہے ذوق تلخ کامی لیک
جنگ بن کچھ مزا نہیں ہوتا
شعر نمبر 5
تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے
ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا
:مفہوم
اگر تم میرے ہو جاتے تو دنیا میں کوئی مشکل باقی نہ رہتی۔
:مشکل الفاظ
ورنہ: اگر ایسا ہوتا تو
:تشریح
شاعر محبوب سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ اگر تم میرے ہو جاتے تو زندگی کی تمام مشکلات آسان ہو جاتیں۔ محبت انسان کے لیے سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے اور محبوب کی قربت زندگی کے ہر دکھ کو ختم کر سکتی ہے۔
:حوالہ کا شعر
تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے
ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا
شعر نمبر 6
اس نے کیا جانے کیا کیا لے کر
دل کسی کام کا نہیں ہوتا
:مفہوم
محبوب دل کو لے کر نہ جانے کیا کیا لے گیا، اب دل کسی کام کا نہیں رہا۔
:مشکل الفاظ
لے کر: ساتھ لے جانا
:تشریح
شاعر کہتا ہے کہ محبوب دل لے گیا اور اس کے ساتھ شاید سکون، خوشی اور قرار بھی لے گیا۔ اب دل خالی اور بے کار ہو چکا ہے۔ یہ شعر محبت میں دل کے مکمل طور پر محبوب کے قبضے میں چلے جانے کی کیفیت بیان کرتا ہے۔
:حوالہ کا شعر
اس نے کیا جانے کیا کیا لے کر
دل کسی کام کا نہیں ہوتا
شعر نمبر 7
امتحاں کیجیے مرا جب تک
شوق زور آزما نہیں ہوتا
:مفہوم
جب تک شوق اور محبت کی طاقت ظاہر نہ ہو، اس وقت تک میرا امتحان لیتے رہیں۔
:مشکل الفاظ
امتحاں: آزمائش
زور آزما: طاقت دکھانے والا
:تشریح
شاعر محبوب سے کہتا ہے کہ میری محبت کو آزمانا ہو تو آزما لو کیونکہ سچی محبت آزمائش سے نہیں گھبراتی۔ بلکہ امتحان سے محبت کی سچائی اور قوت مزید واضح ہوتی ہے۔
:حوالہ کا شعر
امتحاں کیجیے مرا جب تک
شوق زور آزما نہیں ہوتا
شعر نمبر 8
آہ طول امل ہے روز فزوں
گرچہ اک مدعا نہیں ہوتا
:مفہوم
اگرچہ کوئی خاص مقصد نہیں لیکن خواہشات روز بروز بڑھتی جا رہی ہیں۔
:مشکل الفاظ
طول امل: لمبی امیدیں
روز فزوں: دن بدن بڑھتی ہوئی
مدعا: مقصد
:تشریح
انسان کی فطرت ہے کہ اس کی خواہشیں ختم نہیں ہوتیں۔ شاعر کہتا ہے کہ اگرچہ کوئی خاص مقصد نہیں مگر دل کی امیدیں اور خواہشیں بڑھتی ہی جا رہی ہیں۔ یہ شعر انسانی خواہشات کی لا محدود فطرت کو بیان کرتا ہے۔
:حوالہ کا شعر
آہ طول امل ہے روز فزوں
گرچہ اک مدعا نہیں ہوتا
شعر نمبر 9
تم مرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
:مفہوم
جب کوئی اور نہیں ہوتا تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے تم میرے پاس ہو۔
:مشکل الفاظ
گویا: جیسے
دوسرا: کوئی اور
:تشریح
یہ مومن کا نہایت مشہور شعر ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جب وہ تنہائی میں ہوتا ہے تو محبوب کی یاد اتنی شدید ہوتی ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے محبوب اس کے پاس ہی موجود ہو۔ اس شعر میں یادِ محبوب کی شدت اور محبت کی گہرائی نہایت خوبصورت انداز میں بیان ہوئی ہے۔
:حوالہ کا شعر
تم مرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
شعر نمبر 10
کیوں سنے عرض مضطر مومنؔ
صنم آخر خدا نہیں ہوتا
:مفہوم
اے مومن! محبوب تمہاری فریاد کیوں سنے، آخر وہ خدا تو نہیں ہے۔
:مشکل الفاظ
عرض مضطر: بے قرار دل کی فریاد
صنم: محبوب
:تشریح
شاعر حقیقت پسندانہ انداز میں کہتا ہے کہ محبوب سے شکایت کرنا بے فائدہ ہے کیونکہ وہ انسان ہے خدا نہیں۔ اس لیے ہر فریاد سننا اس کے بس میں نہیں۔ اس شعر میں محبت کی حقیقت اور انسانی محدودیت کو بیان کیا گیا ہے۔
:حوالہ کا شعر
کیوں سنے عرض مضطر مومنؔ
صنم آخر خدا نہیں ہوتا
مکمل غزل کی جامع تشریح اور خلاصہ
یہ غزل بنیادی طور پر محبت، بے وفائی، امید، انسانی خواہشات اور عاشق کی داخلی کیفیت کو بیان کرتی ہے۔ شاعر نے محبوب کی بے نیازی، عاشق کی بے بسی اور محبت کی شدت کو نہایت سادہ مگر دلنشین انداز میں پیش کیا ہے۔
غزل کے مختلف اشعار میں کہیں عاشق محبوب کی بے وفائی کا شکوہ کرتا ہے، کہیں اپنی محبت کی آزمائش کا ذکر کرتا ہے اور کہیں زندگی کی حقیقتوں کو بیان کرتا ہے۔ خاص طور پر مشہور شعر “تم مرے پاس ہوتے ہو گویا” محبت کی شدت اور یاد کی طاقت کو ظاہر کرتا ہے۔
مجموعی طور پر یہ غزل مومن کی نفیس اندازِ بیان، جذبات کی لطافت اور فکری گہرائی کا بہترین نمونہ ہے۔