بڑھے چلو

 

بڑھے چلو

عزیز طلبہ!  نظم کے مکمل، باقاعدہ اور امتحانی معیار کے مطابق جوابات پیش کیے جا رہے ہیں۔ اس کی تشریح  میٹرک، انٹرمیڈیٹ اور مقابلے کے امتحانات کو مدنظر رکھ کر کی گئی ہے۔

1۔ شاعر کا مختصر تعارف:

حفیظ جالندھری اردو کے نامور شاعر، نغمہ نگار اور قومی شاعر تھے۔ آپ 14 جنوری 1900ء کو جالندھر (برطانوی ہندوستان) میں پیدا ہوئے اور 21 دسمبر 1982ء کو وفات پائی۔ حفیظ جالندھری کو سب سے زیادہ شہرت پاکستان کے قومی ترانے کے خالق کی حیثیت سے حاصل ہوئی۔
ان کی شاعری میں حب الوطنی، قومی جذبہ، شجاعت، قربانی اور اسلامی اقدار نمایاں ہیں۔ زیرِ نظر نظم بھی ان کے قومی اور ولولہ انگیز کلام کی بہترین مثال ہے۔

نظم کی تشریح:

بند نمبر 1:

رکو نہیں ، جو دشت و ریگزار آئیں سامنے
بچو نہیں ، جو سیل و جوئے بار آئیں سامنے
ہٹو نہیں ، جو بحر و کہسار آئیں سامنے
ہو راہ کتنی ہی کٹھن بڑھے ، چلو بڑھے چلو
دلاوران تیغ زن بڑھے چلو ، بڑھے چلو
بہادران صف شکن بڑھے چلو ، بڑھے چلو

مختصر مفہوم:

اس بند میں شاعر سپاہیوں کو تلقین کرتا ہے کہ راستے میں آنے والی کسی بھی مشکل، رکاوٹ یا خطرے سے نہ گھبرائیں بلکہ ثابت قدمی اور حوصلے کے ساتھ آگے بڑھتے رہیں۔

مشکل الفاظ کے معنی:

دشت: صحرا

ریگزار: ریتلا میدان

سیل: سیلاب

جوئے بار: بہتا ہوا نالا

بحر: سمندر

کہسار: پہاڑ

تیغ زن: تلوار چلانے والا

صف شکن: دشمن کی صفیں توڑنے والا

تشریح:

شاعر اس بند میں وطن کے بہادر سپاہیوں کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ اگر راستے میں صحرا، ریگستان، سیلاب، ندی نالے، سمندر یا پہاڑ بھی آ جائیں تو ہرگز رکنا یا گھبرانا نہیں۔ راستہ چاہے کتنا ہی کٹھن کیوں نہ ہو، آگے بڑھتے رہنا ہی کامیابی کی علامت ہے۔
یہ نظم حوصلہ، عزم اور قربانی کا درس دیتی ہے اور مجاہدین کو ثابت قدم رہنے کی تلقین کرتی ہے۔ شاعر انہیں دلاور، تیغ زن اور صف شکن کہہ کر ان کے حوصلے کو مزید بلند کرتا ہے۔

حوالے کا شعر:

ہو راہ کتنی ہی کٹھن بڑھے، چلو بڑھے چلو
دلاوران تیغ زن بڑھے چلو، بڑھے چلو

بند نمبر 2:

تمہاری تیغ تیز پر وطن کو افتخار ہے
وطن کی مرگ و زیست کا تمہیں پر انحصار ہے
تمھیں ہو جن کے دل میں اس کا عشق بے قرار ہے
لگائے دل میں اک لگن بڑھے چلو ، بڑھے چلو
دلاوران تیغ زن بڑھے چلو ، بڑھے چلو
بہادران صف شکن بڑھے چلو ، بڑھے چلو

مختصر مفہوم:

اس بند میں شاعر سپاہیوں کو یاد دلاتا ہے کہ وطن کی عزت، بقا اور زندگی کا دار و مدار انہی پر ہے۔

مشکل الفاظ کے معنی:

افتخار: فخر

مرگ و زیست: موت اور زندگی

انحصار: بھروسا

بے قرار: بے چین، مضطرب

لگن: پختہ ارادہ

تشریح:

شاعر کہتا ہے کہ تمہاری تیز تلوار پر پورے وطن کو فخر ہے کیونکہ ملک کی زندگی اور موت تمہارے ہاتھ میں ہے۔ وہ سپاہیوں کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ جن لوگوں کے دل میں وطن کی محبت بے قرار ہے، وہ دل میں مضبوط عزم لے کر آگے بڑھیں۔
یہ بند وطن سے محبت، ذمہ داری کے احساس اور قومی فریضے کی ادائیگی کا پیغام دیتا ہے۔

حوالے کا شعر:

وطن کی مرگ و زیست کا تمہیں پر انحصار ہے
لگائے دل میں اک لگن بڑھے چلو، بڑھے چلو

بند نمبر 3:

اٹھاؤ تیغ بے اماں ، وطن کے پاک نام پر
لٹا دو عمر نوجواں ، وطن کے پاک نام پر
نثار کر دو اپنی جان ، وطن کے پاک نام پر
صدائیں دیتا ہے وطن ، بڑھے چلو ، بڑھے چلو
دلاوران تیغ زن بڑھے چلو ، بڑھے چلو
بہادران صف شکن بڑھے چلو ، بڑھے چلو

مختصر مفہوم:

اس بند میں شاعر وطن کے نام پر جان، جوانی اور زندگی قربان کرنے کی تلقین کرتا ہے۔

مشکل الفاظ کے معنی:

بے اماں: بے خوف

نوجواں: جوان

نثار: قربان

تشریح:

شاعر سپاہیوں سے کہتا ہے کہ وطن کے پاک نام پر بے خوف ہو کر تلوار اٹھاؤ اور اپنی جوانی اور جان قربان کر دو۔ وطن خود تمہیں پکار رہا ہے کہ آگے بڑھو اور قربانی دینے سے نہ ہچکچاؤ۔
یہ بند ایثار، قربانی اور حب الوطنی کے اعلیٰ جذبے کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔

حوالے کا شعر:

نثار کر دو اپنی جان، وطن کے پاک نام پر
صدائیں دیتا ہے وطن، بڑھے چلو، بڑھے چلو

بند نمبر 4:

سپاہیانہ زندگی جو قسمت سعید ہے
تو رزم گہ کی موت بھی سپاہیانہ عید ہے
جیا تو فخر قوم ہے مرا تو وہ شہید ہے
سروں سے باندھ کر کفن بڑھے چلو ، بڑھے چلو
دلاوران تیغ زن بڑھے چلو بڑھے چلو
دلاوران صف شکن بڑے چلو ، بڑھے چلو

مختصر مفہوم:

اس بند میں شاعر سپاہی کی زندگی اور موت دونوں کو باعثِ فخر قرار دیتا ہے۔

مشکل الفاظ کے معنی:

سپاہیانہ: سپاہی کی سی

رزم گہ: میدانِ جنگ

سعید: خوش نصیب

کفن: کفن، موت کا لباس

تشریح:

شاعر کہتا ہے کہ سپاہی کی زندگی اگر سعادت ہے تو میدانِ جنگ میں موت بھی اس کے لیے عید کے برابر ہے۔ اگر وہ زندہ رہا تو قوم کا فخر ہے اور اگر شہید ہوا تو اس کا مقام اور بھی بلند ہے۔
وہ سپاہیوں کو تلقین کرتا ہے کہ کفن سر پر باندھ کر بے خوفی سے آگے بڑھو کیونکہ دونوں صورتوں میں کامیابی تمہاری ہے۔

حوالے کا شعر:

جیا تو فخر قوم ہے مرا تو وہ شہید ہے
سروں سے باندھ کر کفن بڑھے چلو، بڑھے چلو

خلاصہ:

یہ نظم حب الوطنی، قربانی، شجاعت اور قومی غیرت کی ایک شاندار مثال ہے جو نوجوانوں اور سپاہیوں میں ولولہ، حوصلہ اور عزم پیدا کرتی ہے۔