دوعالم کا امداد گار آ گیا ہے

دوعالم کا امداد گار آ گیا ہے

امین آ گیا غم گسار آ گیا ہے

 یہ نعت اردو کے بلند پایہ شاعر احسان دانش کی لکھی ہوئی ہے، جنہیں ان کے عوامی اسلوب کی وجہ سے “شاعرِ مزدور” بھی کہا جاتا ہے۔

ذیل میں نعت کی مکمل تشریح حاضر ہے:

 شاعر کا مختصر تعارف

احسان دانش (1914ء تا 1982ء) اردو ادب کے وہ منفرد شاعر ہیں جنہوں نے اپنی عملی زندگی میں سخت محنت مزدوری کی، اسی لیے انہیں “شاعرِ مزدور” کہا جاتا ہے۔ ان کی شاعری میں حقیقت نگاری، سادگی اور انسانی ہمدردی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ نعت گوئی میں ان کا لہجہ نہایت ہی عقیدت مندانہ اور پُر اثر ہے۔ انہوں نے حضور ﷺ کی سیرت کے ان پہلوؤں کو خاص طور پر اجاگر کیا جو غریبوں، یتیموں اور پسے ہوئے طبقات کی فلاح سے متعلق ہیں۔

 اشعار کی تشریح

شعر نمبر1

 دو عالم کا امداد گار آ گیا ہے
امین آ گیا غم گسار آ گیا ہے

 مختصر مفہوم

دونوں جہانوں میں مدد فرمانے والے، امانت دار اور دکھ بانٹنے والے نبی ﷺ تشریف لا چکے ہیں۔

 :مشکل الفاظ کے معنی

   * دو عالم: دنیا اور آخرت۔

   * غم گسار: ہمدرد، غم بانٹنے والا۔

 :تشریح

احسان دانش کہتے ہیں کہ انسانیت کی تمام محرومیوں کا دور ختم ہوا۔ وہ ہستی تشریف لے آئی ہے جو نہ صرف دنیا میں انسانوں کی رہنمائی فرمائے گی بلکہ آخرت میں بھی شفاعت کرے گی۔ آپ ﷺ کی صفت “امین” اس بات کی گواہی ہے کہ اب کائنات کا نظام سچائی اور دیانت پر استوار ہوگا۔

 حوالہ کا شعر

   سلام اس پر کہ جس نے بے کسوں کی دستگیری کی

    سلام اس پر کہ جس نے بادشاہی میں فقیری کی

شعر نمبر 2

غریبوں کی جاں کو، یتیموں کے دل کو
سکوں ہو گیا ہے، قرار آ گیا ہے

  مختصر مفہوم

 آپ ﷺ کی آمد سے غریبوں اور یتیموں کے تڑپتے ہوئے دلوں کو اطمینان اور سکون مل گیا ہے۔

 مشکل الفاظ کے معنی:

   * قرار: چین، ٹھہراؤ۔

 تشریح

 احسان دانش خود غریب طبقے کے نمائندہ شاعر ہیں، وہ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ کی بعثت سے سب سے بڑا انقلاب یہ آیا کہ معاشرے کے کمزور طبقات کو تحفظ ملا۔ یتیموں کو اب کسی کے ظلم کا ڈر نہیں رہا کیونکہ ان کا سرپرستِ اعلیٰ ﷺ آ گیا ہے۔

  حوالہ کا شعر

    یتیموں کا والی، غلاموں کا مولیٰ
   خطا کار سے درگزر کرنے والا

شعر نمبر 3

اصولِ محبت ہے پیغام جس کا
 وہ محبوبِ پروردگار آ گیا ہے

  مختصر مفہوم

اللہ کا وہ پیارا رسول ﷺ آ گیا ہے جس کی ساری زندگی کا پیغام صرف پیار اور محبت ہے۔

 مشکل الفاظ کے معنی

   * محبوبِ پروردگار: اللہ کا پیارا (مراد حضور ﷺ)۔

  تشریح

 آپ ﷺ کی تشریف آوری سے دنیا میں نفرتوں کا خاتمہ ہوا۔ آپ ﷺ نے جبر اور تلوار کے بجائے اخلاق اور محبت سے دلوں کو فتح کیا۔ اللہ نے اپنے محبوب کو “رحمت اللعالمین” بنا کر بھیجا، جس کا ہر عمل سراپا محبت ہے۔

  حوالہ کا شعر

   حسنِ کردار سے تسخیر کیا عالم کو

    آپ ﷺ کی ذات مروت کا نمونہ ٹھہری

شعر نمبر 4

 اب انساں کو انساں کا عرفان ہوگا
 یقیں ہو گیا، اعتبار آ گیا ہے

 مختصر مفہوم

 اب انسان دوسرے انسان کی قدر پہچانے گا اور معاشرے میں باہمی اعتماد بحال ہو جائے گا۔

  مشکل الفاظ کے معنی

   * عرفان: پہچان، معرفت۔

  تشریح

 آپ ﷺ سے پہلے انسانوں کے درمیان رنگ، نسل اور طبقے کی تفریق تھی۔ حضور ﷺ نے آ کر بتایا کہ سب انسان آدم کی اولاد ہیں۔ جب انسان نے دوسرے انسان کو برابر سمجھا تو معاشرے میں اعتبار اور بھروسے کی فضا قائم ہوئی۔

حوالے کا شعر

    ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز

    نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز

شعر نمبر 5

بجھے گا نہ جس کا چراغِ محبت
 وہ پیغمبرِ ذی وقار آ گیا ہے

  مختصر مفہوم

 وہ بلند مرتبہ پیغمبر ﷺ تشریف لائے ہیں جن کی روشن کردہ محبت کی شمع کبھی نہیں بجھے گی۔

 مشکل الفاظ کے معنی

   * ذی وقار: باعزت، بلند مرتبے والا۔

  تشریح

احسان دانش کہتے ہیں کہ دنیا کے نظریات مٹ سکتے ہیں، لیکن حضور ﷺ نے جو ہدایت اور محبت کا چراغ روشن کیا ہے، وہ ابدی ہے۔ وقت جتنا بھی گزر جائے، آپ ﷺ کی تعلیمات کی روشنی ہمیشہ تازہ اور تابندہ رہے گی۔

 حوالہ کا شعر

    نورِ خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
   پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

شعر نمبر 6

 زمانے کو اب اپنی منزل مبارک
 رسولوں کا اب سردار آ گیا ہے
  مختصر مفہوم

 تمام رسولوں کے امام ﷺ تشریف لا چکے ہیں، اب کائنات کو کامیابی کی اپنی حقیقی منزل مبارک ہو۔

  مشکل الفاظ کے معنی

   * سردار: پیشوا، امام (مراد امام الانبیاء ﷺ)۔

  تشریح

 نعت کے آخری شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ ہدایت کا سفر اب اپنی تکمیل کو پہنچ گیا ہے۔ چونکہ سید المرسلین ﷺ تشریف لا چکے ہیں، اس لیے اب کسی اور رہبر کی ضرورت نہیں رہی۔ زمانے کو اپنی منزل مل گئی ہے اور وہ منزل “اطاعتِ رسول ﷺ” ہے۔

  حوالہ کا شعر

   کی محمد ﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
   یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں

خلاصۂ نعت

احسان دانش کی یہ نعت حضور ﷺ کی آمد سے ہونے والے سماجی اور روحانی انقلاب کا آئینہ دار ہے۔ اس کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ آپ ﷺ کی تشریف آوری سے غریبوں کو سہارا ملا، انسانیت کو وقار نصیب ہوا اور دنیا کو محبت کا وہ ابدی پیغام ملا جس کی روشنی کبھی ختم نہیں ہوگی۔ آپ ﷺ کی سرداری نے بھٹکی ہوئی انسانیت کو کامیابی کی حتمی منزل دکھا دی ہے۔